جوہری معاہدے کے شراکت دار موثر اقدامات کیوں‌ نہیں کر رہے؟ ایرانی وزیر خارجہ چلا اٹھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں کے نفاذ اور یورپی ممالک کی طرف سے ایران کو بچانے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے جوہری پروگرام کے معاہدے میں شامل ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے زبانی دعووں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کریں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ یورپی یونین کی طرف سے ایران کے ساتھ تجارتی امور جاری رکھنے کے لیے 'یورپی لائحہ عمل' کے نام سے ایک نیا پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا مگر اب تک ایسے کسی پروگرام پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب امریکا کی ایران پر پابندیوں میں سختی کے بعد ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے سفارتی کوششیں مزید تیز کردی ہیں۔

کل جمعہ کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں چینی حکام سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں جواد ظریف نے جوہری معاہدہ کرنے والے دوست ممالک جس میں یورپی یونین، فرانس، برطانیہ، چین اور روس شامل ہیں، کی 'سست روی' کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں‌ نے کہا کہ اب تک جوہری معاہدے کے شراکت دار ممالک اس معاہدے کو بچانے کے لیے صرف زبانی دعوے کرتے رہے ہیں۔ انہوں‌ نےعملی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

ایرانی وزارت خارجہ کی طرف سے جواد ظریف کے چین میں خطاب کی ویڈیو نشر کی ہے جس میں‌ وہ دنیا کو ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات کے قیام پر زور دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری، جوہری معاہدے میں شامل ممالک اور چین اور روس جیسے دوست ممالک چاہیں تو جوہری معاہدے کو بچا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے ایران کی طرف سے موثر اقدامات کئے گئے مگر معاہدے کے دوسرے شراکت داروں کی طرف سے ابھی تک کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ اپریل میں ایرانی وزیر خارجہ نے یورپی یونین پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران پر پابندیوں کے معاملے میں یورپی یونین ناکام رہی ہے۔ امریکا کی جانب سے جوہری سمجھوتے سے علاحدگی اور نئی پابندیوں کے نفاذ کے بعد یورپی ممالک کو حرکت میں آنا چاہیے تھا مگر یورپ کی طرف سے کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں