.

شاہ سلمان نے 30 مئی کو خلیج کونسل اور عرب لیگ کے ہنگامی سربراہ اجلاس طلب کرلیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خطے کی تازہ صورت حال کے تناظر اور خلیج کو درپیش خطرات کے تدارک کے لیے خلیج تعاون کونسل اور عرب لیگ کا فوری اجلاس طلب کیاہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق سعودی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سعودی عرب اور امارات پرحملوں کے واقعات اور آئندہ کے لیے خلیجی ملکوں پر جارحیت کی روک تھام کے لیے 30 مئی کو خلیجی اور عرب سربراہ کانفرنسیں منعقد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سعودی خبر رساں ادارے'ایس پی اے' کے مطابق شاہ سلمان نے خلیجی ممالک کی قیادت اور عرب ممالک کے سربراہان کو 30 مئی کو ہنگامی اجلاس بلانے کے لیے مکتوب ارسال کر دیے ہیں۔ اس پیش رفت کا مقصد حالیہ ایام میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ہونے والے تخریب کارانہ حملوں اوران کی روک تھام پر غور کرنا ہے۔

تیس مئی کو عرب لیگ اور خلیجی ممالک کی سربراہ کانفرنس کے بعد 31 مئی بہ مطابق 26 رمضان المبارک کو اسلامی سربراہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تینوں سربراہ اجلاسوں کی میزبانی سعودی عرب کرے گا جو مکہ معظمہ میں منعقد کی جائیں گی۔

خیال رہے کہ خلیج ممالک اور پورا مشرق وسطیٰ اس وقت سخت کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری محاذ آرائی نےخطے میں ایک نئی جنگ کی کیفیت پیدا کردی ہے۔

حال ہی میں متحدہ عرب امارات کی الفجیرہ بندرگاہ کے قریب دو سعودی ،ایک اماراتی اور ایک نارویجن بحری جہاز پر تخریب کاری کے حملے کیے گئے۔ اس کے بعد سعودی عرب میں تیل پائپ لائنوں کو اڑانےکے لیے ڈرون سے حملہ کیاگیا۔ ناروے کی انشورینس کمپنیوں کی طرف سے جاری کردہ تحقیقات میں الزام عایدکیا گیاہے کہ الفجیرہ میں تیل برداربحری جہازوں پرحملوں میں ممکنہ طور پرایرانی پاسداران انقلاب کا ہاتھ لگتا ہے۔