.

خلیجی ممالک کا عرب اور خلیجی سربراہ اجلاس طلب کرنے کے سعودی مطالبے کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات اور دوسرے خلیجی ممالک نے سعودی عرب کی طرف سے خطے کو درپیش سلامتی کے خطرات کے پیش نظر عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس بلائے جانے کےمطالبے کا خیرمقدم کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہےکہ ابو ظبی الریاض کی طرف سے خلیجی ممالک اورعرب لیگ کی سربراہ کانفرنس کے انعقاد کے مطالبے کا خیر مقدم کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 30 مئی کو سعودی عرب کے شہر مکہ میں‌ طلب کردہ عرب لیگ اور خلیجی سربراہ اجلاسوں میں خطے کو درپیش سلامتی کےخطرات پرغور اور ان سےنمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پرطے کیا جائے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہےکہ سعودی عرب کی طرف سے خلیجی اور عرب سربراہ کانفرنسوں‌ کے انعقاد کا مطالبہ کوئی انوکھا اقدام نہیں بلکہ یہ خطے میں امن وسلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب کی کاوشوں اور خادم الحرمین الشریفین کی مشترکہ چیلنجز سے نمٹنےکے لیے عرب اورخلیجی ممالک کی صف بندی کی مساعی کا حصہ ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہےکہ اس وقت خلیجی ممالک نازک دور سے گذر رہےہیں۔ خطے کودرپیش خطرات اور چیلنجز سےنمٹنے کے لیے علاقائی قوتوں کی صف بندی ضروری ہے۔ عرب ممالک کے باہمی اتحاد اور یگانگت وقت اور حالات کا تقاضا ہے۔ خطے اور عرب ممالک میں امن وامان اور استحکام کے لیے سعودی عرب کا کردار ہمیشہ قابل تحسین رہا ہے۔ تمام عرب ممالک بالخصوص خلیجی ملکوںکو اپنی خودمختاری، مشترکہ سلامتی اور اپنی کامیابیوں کو بچانے کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد پید کرنا ہوگا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے گذشتہ روز 30 مئی کو خلیج تعاون کونسل اورعرب لیگ کے ہنگامی اجلاس بلانے کی دعوت دی ہے۔ یہ اجلاس مکہ معظمہ میں ہوں‌ گےجب کہ اگلے روز 31 مئی کو اسلامی سربراہ اجلاس بھی مکہ معظمہ میں طلب کیا گیا ہے۔