.

ترکی میں دسیوں سرکاری عمال گرفتار کر لئے گئے ۔۔۔ وجہ کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک حکام نے وزارت خارجہ کے 249 سابق و موجودہ ملازمین کو 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت سے تعلق کے شبے میں حراست میں لینے کا حکم دے دیا ہے۔ ترک حکام کے مطابق اب تک ان افراد میں سے 78 کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ترک حکام کی جانب سے یہ فیصلہ 42 شہروں میں وزارت خارجہ کی ملازمتوں کے امتحانات میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں کے سامنے آنے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ خیال ہے کہ یہ بے ضابطگیاں امریکا میں مقیم ترک مبلغ فتح اللہ گولن کی تنظیم کے ارکان کو فائدہ پہنچانے کے لئے کی گئیں۔

ترک پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق ان مشتبہ افراد نے 2010 اور 2013 کے درمیان وزارت خارجہ کے مختلف عہدوں پر خدمات سرانجام دیں تھا۔ ذرائع کے مطابق ان ملازمین میں سے صرف 14 ابھی حاضر سروس ہیں جبکہ باقی تمام کو وزارت سے نکال دیا گیا ہے۔

ترکی میں 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے طیب ایردوآن کی حکومت فتح اللہ گولن اور ان کی تنظیم کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دے کر سرکاری ملازمین، اساتذہ، ججوں اور فوجیوں سمیت ہزاروں افراد کو سرکاری ملازمت سے برخاست کر چکی ہے۔