.

حوثیوں کے ہاتھوں امدادی سامان کی لوٹ مار، عالمی ادارہ خوراک کا سخت انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ خوراک کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے کہ ایران نواز حوثی ملیشیا کے ہاتھوں امدادی سامان کی لوٹ اور غبن کے بڑھتے واقعات کےباعث حوثیوں کے زیر تسلط علاقوں میں امدادی کارروائیاں بند ہونے کا اندیشہ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عالمی ادارہ خوراک کی طرف سے جاری کردہ ایک مکتوب میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ امداد دینے والے ممالک حوثیوں کے زیرقبضہ علاقوں میں امداد کی فراہمی کے حوالے سے مایوس ہیں۔ عالمی ادارے کا کہنا ہےکہ حوثیوں‌ کے قبضے میں آنےوالے علاقوں میں امداد مستحق لوگوں تک نہیں پہنچ رہی ہے۔

عالمی ادارہ خوراک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ پیزلی کی طرف سے حوثیوں کی سپریم سیاسی کونسل کے چیئرمین مھدی المشاط کو ارسال کردہ انتباہی مکتوب میں خبردارکیا گیا ہے کہ لوٹ مار کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو امدادی آپریشن آگے نہیں بڑھ سکتا۔

امدادی پروگرام کے ترجمان نے جنیوا میں'اے ایف پی' کو بتایا کہ عالمی ادارے کی طرف سے حوثیوں کو گذشتہ برس دسمبر کےبعد اپنی نوعیت کا یہ دوسرا انتباہی مکتوب ہے۔

مکتوب میں کہا گیا ہے کہ عالمی ادارہ خوراک کو امدادی سامان کی لوٹ مار اور مستحق شہریوں‌کو محروم رکھے جانے سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔ حوثیوں کےزیرقبضہ علاقوں میں امدادی سامان کی بڑے پیمانے پر لوٹ مار اور غبن کی خبروں‌نے امدادی آپریشن کو متاثر کیا۔

پیزلی کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتوں کے دوران حوثی جنگجوئوں کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں‌کی وجہ سے بھی امدادی آپریشن آگے نہیں بڑھایا جاسکا۔

عالمی ادارے کے مطابق اس وقت یمن میں جنگ کے باعث 33 لاکھ شہری بے گھر ہیں۔ یمن کے دو کروڑ 41 لاکھ افراد جو آبادی کا دو تہائی ہے کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔