.

سعودی نوجوان بریدہ کے پارک میں 400 سے زیادہ افراد کو ورزش کراتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ورزش انسانی زندگی میں ایک اہم معمول کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ جسمانی صحت کو مضبوط بنانے کے حوالے سے ایک اہم ضرورت ہے۔ بہت سے لوگ اس کو روزانہ کا معمول بنانے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ تاہم اکثر اوقات یہ بنا سوچے سمجھے انجام دے دی جاتی ہے۔ لہذا بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرے کے لوگوں کو محفوظ طریقے سے ورزش انجام دینے کا طریقہ سکھایا جانا چاہیے۔

سعودی نوجوان ابراہیم الرشودی بھی مندرجہ بالا سطور میں مذکور طریقے پر القصیم صوبے میں بریدہ شہر کے ایک پارک میں رمضان مبارک کے دوران ورزش کی تربیت دیتے ہیں۔

سعودی خبر رساں ایجنسی SPA کی رپورٹ کے مطابق کیپٹن ابراہیم الرشودی مختلف عمر کے 400 سے زیادہ سعودی شہریوں کو جسمانی فٹنس اور ورزش کے حوالے سے اپنا عملی تجربہ بالکل مفت پیش کر رہے ہیں۔ وہ بریدہ شہر کے ایک پارک میں روزانہ عصر کی نماز کے بعد اجتماعی طور پر ہلکی پھلکی ورزش کا سیشن منعقد کرتے ہیں۔ اس سیشن کا مقصد شرکت کرنے والے افراد کی فٹنس کی سطح کو اس انداز سے بڑھانا ہے کہ دوران ورزش انسانی صحت پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ اس سلسلے میں وہ شرکاء کی عمر اور وزن کا خیال رکھتے ہیں۔

الرشودی کے اس اقدام کو قصیم کے لوگوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر توجہ حاصل ہوئی ہے۔

الرشودی کہتے ہیں کہ "ورزش کے اس سیشن کا مقصد علاقے کے لوگوں میں آسان اور سادہ حرکات کے ذریعے ورزش اور جسمانی صحت کی ثقافت کو رواج دینا ہے۔ یہ معمول بھی ویژن 2030 پروگرام کے تناظر میں ہے جو لوگوں کی صحت اور ان کی زندگی کے معیار کو اہمیت دیتا ہے"۔

ورزش میں شریک افراد نے ورزشی سیشن کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ورزش انسانی صحت، اس کی سوچ اور سرگرمیوں کے لیے اہم ہے۔

غذائی ماہر ابراہیم الدہیش کہتے ہیں کہ انسان کی صحت اور عمر کے حوالے سے موزوں ورزش کو روزانہ کرنے سے جسم میں مدافعی نظام بہتر ہوتا ہے۔ اس طرح اللہ کے حکم سے اُن امراض سے تحفظ حاصل ہوتا ہے جو انسان کے کم حرکت کرنے کے نتیجے میں جنم لیتے ہیں۔ ان میں امراض قلب، خون کی شریانوں کی بیماریاں، بے تحاشا موٹاپا اور ذیابیطس شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ورزش سے خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے اور نفسیاتی صحت بہتر ہوتی ہے۔