.

صدر حسن روحانی نے ’’وار کونسل‘‘ تشکیل دینے کا مطالبہ کیوں کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکا کے ساتھ جاری 'معاشی جنگ' سے نمٹنے کے لیے وسیع انتظامی اختیارات کا مطالبہ کر دیا۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ سنہ 1980ء سے 1988ء تک جاری رہنے والی آٹھ سالہ جنگ کے دوران سپریم وار کونسل ملک کی اقتصادی صورت حال کے پیش نظر فیصلہ سازی کے وسیع اختیارات کو ایک ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی حکومت حالت جنگ میں وسیع اختیارات حاصل کر چکی ہے۔

جنگی انتظامات کی اعلیٰ اختیاراتی کونسل

ایرانی صدر حسن روحانی نے تہران میں مذہبی شخصیات کے ایک اجلاس سے خطاب میں‌ کہا کہ عراق کے ساتھ جنگ کےعرصے میں ہمیں جب مشکل پیش آئی تو ہم اس کے حل کے لیے 'سپریم کونسل آف وار منیجمنٹ' تشکیل دی۔ تمام ریاستی ادارے اس کونسل کا حصہ بنائے گئے۔ مجلس شوریٰ اور عدلیہ کونسل کے فیصلوں میں شامل نہیں کی گئیں۔ آج ہم ایک بار پھر ایک ایسی کونسل کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔

انہوں‌ نے مزید کہا کہ بنکوں کے ساتھ لین دین، پٹرولیم مصنوعات پر امریکی پابندیوں‌ کے بعد ہمارے پاس متبادل لائحہ عمل اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں‌ بچا ہے۔

کشیدگی میں اضافہ

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ ایام میں سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ ایرانی عسکری لیڈروں‌ کی طرف سے خطے میں امریکی مفادات اور امریکا کے اتحادیوں پرحملوں‌ کی دھمکیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایرانی فضائیہ کے سربراہ عزیز نصیر زادہ نے خطے کے ممالک کے دارالحکومتوں کو حملوں کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں‌ نے کہا کہ ایران کو درپیش خطرات کے جواب میں تہران خلیجی ممالک میں تیل کی تنصیبات کو کہیں اور کسی بھی وقت نشانہ بنا سکتا ہے۔

نصری زادہ نے بوشہر، بندرعباس اور اصفہان شہروں میں فوجی اڈوں کے دورے کے دوران فوجیوں‌ سے ملاقات میں کہا کہ ایرانی ہوا بازوں کو عراق جنگ میں لڑنے والے سپاہیوں کی پیروی کرتے ہوئے دشمن پر آگے بڑھ کر حملہ کرنا ہوگا۔

سپریم لیڈر کے لامتناہی اختیارات

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو لامتناہی اختیارات حاصل ہیں۔ انہیں ملک کے سیاسی اور مذہبی نظام پر بالادستی حاصل ہے۔ عموما جنگ اور امن کا فیصلہ سپریم لیڈر ہی کرتا ہے۔ سپریم لیڈر مسلح افواج کا کمانڈر چیف ہوتا ہے اور فوج کو نقل وحرکت کا حکم دے سکتا ہے۔

ایرانی دستور کے تحت ولایت فقیہ کے سربراہ کے اختیارات درج ذیل ہیں۔

  • سپریم لیڈر مشاورت اور گارڈین کونسل کے عہدیداروں کے مشورے سے جمہوریہ ایران کی عمومی پالیسی کا اعلان کرتا ہے۔
  • سیاسی نظامن کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے۔
  • سپریم لیڈر کو ریفرینڈم کرانے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔
  • وہ مسلح افواج کا سربراہ مانا جاتا ہے۔
  • جنگ اور امن کا اعلان اور نفیرعام کا اعلان سپریم لیڈر کے اختیارات میں شامل ہے۔
  • دستوری کونسل کے فقہا کےارکان کی تقرری اور برطرفی بھی سپریم لیڈر کے اختیار میں ہے۔
  • عدلیہ، ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن کارپوریشن، جوائنٹ چیف اسٹاف کمیٹی، پاسداران انقلاب کا سربراہ اور مسلح افواج کی پوری لیڈر شپ سپریم لیڈر کو جواب دہ ہوتی ہے۔
  • صدر کے انتخاب کے بعد سپریم لیڈر کی طرف سے اس کی توثیق ضروری ہے۔
  • اگر صدر ولایت فقیہ کے نظام اور ضابطہ اخلاق کی پابندی میں کوتاہی برتے تو سپریم لیڈر صدر کو برطرف کر سکتا ہے۔
  • قیدیوں‌ کی سزائوں‌ میں تخفیف یا سزائوں کی معافی کا اختیار بھی سپریم لیڈر کے پاس ہے۔