حرم مکی پر قبضے کے مرکزی مجرم جہیمان کی اکلوتی تصویر ایک بار پھر زیرِ گردش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یکم محرم 1400 ہجری کی صبح مسجد حرام پر 200 سے زیادہ مسلح شدت پسندوں کے قبضے کی کارروائی کا مرکزی مجرم سعودی باشندہ جہیمان العتیبی تھا۔

رمضان میں نشر ہونے والے سعودی ڈرامہ سیریل "العاصوف" میں جہیمان اور حرم میں پیش آنے والے واقعات کی کہانی بیان کی گئی ہے۔

سعودی لکھاری ڈاکٹر عبدالرحمن الوابلی (مرحوم) نے اُس زمانے میں پھیلے بعض وڈیو کلپوں اور مستند ذرائع سے سامنے آنے والی بات چیت کی مدد سے جہیمان کی کہانی قلم بند کی۔

عبدالرحمن کے بھائی عبداللہ الوابلی کا کہنا ہے کہ "ہم نے اُس زمانے کا وقت گزارا اور ان واقعات کو اچھی طرح سے جانا ہے۔ ہماری بیٹھکوں میں اسی واقعے کا چرچا رہتا تھا۔ بہت سے سعودی شہری 1400 ہجری کی ابتدا پر پیش آنے والے اس واقعے میں حرم کے اندر یرغمال بنا لیے گئے تھے"۔

انٹرنیٹ اور میڈیا میں زیر گردش جہیمان کی واحد تصویر اس مجرم کو مسجد حرام کے ایک گنبد میں زندہ حراست میں لیے جانے کے بعد کھینچی گئی تھی۔ اس سے قبل سعودی فوج نے حرم مکی پر سے 200 سے زیادہ مسلح عناصر کا قبضہ ختم کرانے کے لیے گیس کا استعمال کیا۔

ان دنوں ایک بار پھر سعودی حلقوں کی جانب سے جہیمان کی اکلوتی تصویر سوشل میڈیا پر گردش میں ہے۔ اس دوران تصویر کا موازنہ ڈرامہ سیریل العاصوف میں جہیمان کا کردار ادا کرنے والے فن کار کی صورت سے کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ جہیمان العتیبی کا خاندان ابھی تک سعودی عرب میں موجود ہے۔ انہیں سعودی شہریوں کی جانب سے احترام حاصل ہے۔ اس خاندان کا ایک فرد عسکری شعبے میں کام کرتا ہے۔ اسی طرح خود جہیمان کا سب سے بڑا بیٹا سعودی نیشنل گارڈز میں افسر ہے۔ جہیمان کے گھرانے کے دیگر افراد بھی مملکت میں نارمل زندگی گزار رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں