.

امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے قطر نے ایران کے ساتھ تجارتی روابط کم کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی طرف سے ایران پر عاید کی جانےوالی اقتصادی پابندیوں‌ نے تہران کے حامی ملکوں کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ خلیجی ریاست قطر نے بھی امریکی پابندیوں‌کے خوف سے ایران کے ساتھ تجارتی لین دین کم کردیا ہے۔

ایک ایرانی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ تہران اور دوحہ کے درمیان تجارتی روابط کم ہوگئے ہیں۔ اس کی وجہ ایران پر عاید کی جانے والی امریکی پابندیاں ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی'ایلنا' کے مطابق قطراور ایران کے ایوان صعنت وتجارت کےچیئرمین عدنان موسو بور نے کہا کہ تین اور چار ماہ سے ایران اور قطر کے درمیان تجارتی سرگرمیاں کم ہوگئی ہیں۔ دونوں ملکوں‌کے درمیان لین دین میں کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت امریکا کی طرف سے ایران پرعاید کی جانے والی معاشی پابندیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں‌نے کہا کہ جب اس حوالے سے قطری حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں‌نے کہا کہ دوحہ ایران کے حوالے سے امریکی وزارت خزانہ کی قراردادوں‌پرعمل درآمد کرے گا۔ قطری عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ہم تہران کو صرف خوراک اور اداویات فراہم کریں‌گے۔اس سے قبل ہم تہران کو زرعی اجناس اور دیگر غذائی مواد بھی فراہم کرتے رہےہیں۔

خیال رہےکہ سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر کی طرف سے قطر کے معاشی اور سفارتی بائیکاٹ کے بعد دوحہ نے تہران کے ساتھ اپنے تعلقات مزید بہتر بنانے اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کی کوشش کی تھی مگر امریکا کی طرف سے ایران پر عاید کی جانےوالی پابندیوں کے باعث قطر کو ایران کے ساتھ تجارتی روابط برقرار رکھنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

جولائی 2018ء کو عدنان موسوی بور نے کہا تھا تہران دوحہ کےساتھ سنہ 2020ء میں برآمدات کا حج 90 کروڑ ڈالر تک لےجانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔