بشارالاسد سے دورہ ایران کے دوران تُرک انٹیلی جنس چیف کی حیران ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دو ماہ قبل شام کے صدر بشارالاسد نے ایران کا خفیہ دورہ کیا۔ ان کے اس دورے کوایرانی میڈیا کے ساتھ ترکی کے ذرائع ابلاغ میں‌ بھی کافی کوریج دی گئی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ایرانی اور ترک ذرائع ابلاغ سے خبر ملی ہے کہ بشارالاسد کی دورہ تہران کے دوران ترکی کے انٹیلی جنس چیف 'ہاکان فیدان' نےبھی ان سے ملاقات کی تھی۔ بشارالاسد کا دورہ تہران ایرانی حکومتی اور سیاسی حلقوں میں‌ بھی متنازع رہا۔ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے بشارالاسد کےدورے کے بارے میں لا علم رکھنے اور ملاقاتوں میں شریک نہ کرنے پر بہ طور احتجاج استعفیٰ دےدیا تھا تاہم بعد میں حکومت نے انہیں استعفیٰ واپس لینے پرمجبورکردیا تھا۔

بشارالاسد کےدورہ ایران کا اہتمام سپاہ پاسداران انقلاب کی سمندر پار کارروائیوں میں سرگرم القدس' ملیشیا کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے کرایا تھا۔ شامی صدر نے ایران کے دورے کےدوران سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر حسن روحانی سے ملاقات کی تھی۔

ایران اور ترکی کے ذرائع ابلاغ کے مطابق بشارالاسد کے دورہ ایران کے دوران ترکی کے انٹیلی جنس چیف ہاکان فیدان نے بھی ان سے ملاقات کی۔ ترکی کی 'سون ڈاکیکا' ویب سائیٹ کے مطابق انٹیلی جنس چیف نے دو بار بشار الاسد سے ملاقات کی۔ ایک بار تہران اور دوسری مرتبہ شام اور ترکی کی سرحد کےقریب کسب کے علاقے میں‌ ملاقات کی۔

رپورٹ کے مطابق شامی صدر بشارالاسد نے ترک انٹیلی جنس چیف سے ملاقات کے دوران ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے بھی ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا تاہم ساتھ ہی کہا تھا کہ اس ملاقات سے شام کی خود مختاری متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں