.

حوثی ملیشیا اور اس کے اتحادیوں کےدرمیان اختلافات شدت اختیارات کرگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران نواز حوثی ملیشیا کی قیادت اور اس کے اتحادیوں کے درمیان گہرے اختلافات سامنے آئے ہیں اوران اختلافات کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

العربیہ چینل کی رپورٹ‌ کے مطابق حوثیوں کی سیاسی کونسل کے رکن اور اشتراکی پارٹی کے رہنما سلطان السامعی نے باغی گروپ پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے حوثی قیادت کو بدعنوانی میں‌ ملوث اور اتحادیوں کو نظر اندازکرنے کے الزامات عاید کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا اور اس کےاتحادیوں کےدرمیان اختلافات مزید گہرے ہوتے جا رہےہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے حوثی باغی اپنے رہے سہے اتحادیوں سے بھی ہاتھ دھونے والےہیں۔

حوثی ملیشیا اور اس کے اتحادیوں کےدرمیان اختلافات شدت اختیار کرنے کی اطلاعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب دوسری جانب حوثی ملیشیا کو محاذ جنگ پر سرکاری فوج کے ہاتھوں بدترین شکست کا سامنا ہے۔ اب تک حوثی ملیشیا اپنے حامیوں کو ملک میں بغاوت کو آئینی حیثیت دینے اور اپنے اقتدار کی مضبوطی کے لیے استعمال کیا۔ اب ان کا مشن مکمل ہوگیا ہے، اس لیےحوثی ملیشیا اپنے اتحادیوں سےبے نیاز ہو رہی ہے۔

حوثی ملیشیا کی سیاسی اور عسکری لیڈرشپ کے درمیان بھی اختلافات بڑھتے جا رہےہیں۔ حوثیوں کی حامی اشتراکی پارٹی کے رہ نما سلطان السامعی نے الزام عاید کیاکہ حوثی ان کے اختیارات اور نقل وحرکت کو محدود کرنے کی کوشش کررہےہیں۔

انہوں‌نے حوثی لیڈر مہدی المشاط کےدفتر کے انچارج احمد حامد ابو محفوظ پر کرپشن کرنے اور ریاستی اداروں پر قبضہ جمانے کے ساتھ باغیوں‌کی قائم کردہ حکومت کے وزراء کو نیچا دکھانے کا الزام عاید کیا۔

واضح رہےکہ حوثی باغیوں نےمہدی المشاط کو جنرل کا درجہ دے رکھا ہےحالانکہ وہ حوثی ملیشیا کے عسکری ونگ کا حصہ نہیں ہیں۔