سعودی نوجوان نے 'دل خور' بھیڑے سے اہل علاقہ کو کیسے نجات دلائی:ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں مدینہ منورہ کے جنوبی علاقے وادی ریم میں ایک نوجوان نے خون خوار بھیڑیے سے اہل علاقہ کو نجات دلا کر ان کے مال مویشی محفوظ بنا دیے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق سعودی شہری فہد الصاعدی نے خون خوار بھیڑے سے نجات کے لیےایک پنجرہ تیار کیا۔ آہنی پنجرے میں ایک طرف ایک بکری باندھی گئی تاکہ بھیڑیا اس بکری کے شکار کے لیے وہاں داخل ہو۔ بھیڑیا جیسے ہی پنجرے میں داخل ہوا تو اس کا داخلی راستہ بند ہو گیا۔ اب اس کے پاس وہاں‌سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ سےبات کرتے ہوئے الصاعدی نے کہا کہ بھیڑیے نے مال مویشی رکھنےوالے شہریوں کو پریشان کر رکھا تھا۔ مقامی شہریوں‌ نے خون خوار بھیڑے سے نجات کی بہت کوشش کی مگر شہری درندے سے نجات نہ پا سکے۔ میں‌ نے بھیڑیئےکے شکارکے لیے ایک پنجرہ تیار کیا۔ یہ انتہائی سادہ اور کم خرچ طریقہ تھا۔ میں‌ نےتین ماہ تک شکاری پنجرے متعدد مقامات پر نصب کردیے۔ اس کا کہنا ہےکہ میں ان پنجروں‌کو خفیہ کیمروں کی مدد سے کنٹرول کررہا تھا۔

ان میں ایک پنجرے میں بکری رکھی گئی۔ ایک روز بھیڑیا بکری کےشکار کے لیے اس پنجرے کے پاس جا پہنچا۔ اس نے پنجرے میں موجود بکری کو شکار کرنے کی کوشش کی مگر خود پھنس گیا۔ الصاعدی نے بتایا کہ مجھے اندازہ ہوا کہ یہ بھیڑیا جانوروں کے صرف جگر اور دل کھاتا ہے۔ میں‌ نے پنجرے جگر اوردل رکھنا شروع کردیے اور اسے مسلسل سات دن تک دل اور جگر کھلاتا رہا۔ شہریوں‌نے اسے خریدنے کی پیش کش بھی کی تاہم سات دن کےبعد اسے بہت دور ایک جگہ لےجا کر چھوڑ دیا گیا۔

بھیڑے کو مارنے کے بجائے اسے علاقے سے دور لےجا کرچھوڑ دینے پر سوشل میڈیا پرالصاعدی کی تحسین کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں