بحری جہازوں پر تخریبی حملے میں پاسداران انقلاب کا ہاتھ کارفرما ہے: امریکی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات کے پانیوں کے نزدیک تیل بردار بحری جہازوں پر حملوں میں ایرانی سپاہ پاسداران کا براہ راست ہاتھ کارفرما ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' نے امریکی فوجی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ امارات میں بحری جہازوں پر حملے ایرانی پاسداران انقلاب کی منظم مہم کا حصہ ہیں۔ ایران خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی منظم مہم پر عمل پیرا ہے۔

امریکی جوائنٹ کمیٹی کے ڈائریکٹر مائیکل گیلڈائی نے کہا کہ 'ہم امارات الفجیرہ کے قریب بحری جہازوں پر حملوں میں پاسداران انقلاب کے ملوث ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارت دفاع نے بحری جہازوں‌ پر حملوں میں استعمال ہونے والی بارودی سرنگیں ایرانی ساختہ قرار دی ہیں۔ انٹیلی جنس اداروں‌ کو ان بارودی سرنگوں‌ کے پہنچائے جانے کے بارے میں بھی اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

امریکی فوج کی طرف سے یہ دعویٰ‌ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دوسری طرف امریکی فوج نے 1500 اضافی فوجی مشرق وسطیٰ میں تعینات کا فیصلہ کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اضافی فوج کی تعینات کے فیصلے پر اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں اضافی فوج کی تعیناتی تحفظ کے نقطہ نظر سے ہے اور ہم تھوڑی تعداد میں‌ مزید فوجی مشرق وسطیٰ میں تعینات کریں‌ گے۔

ادھر اسی سیاق میں امریکی حکام نے خبر رساں ایجنسی 'اے پی' کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں اضافی امریکی فوج کی تعیناتی کی تجویز غور کے لیے کانگریس کے سامنے پیش کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل امارات کی الفجیرہ ریاست کے قریب چار بحری جہازوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان میں دو تیل بردار جہاز سعودی عرب کے تھے۔ایک جہازامارات اور ایک ناروے تھا۔ عالمی سطح پر ہونے والی تحقیقات میں بھی ان حملوں کا الزام پاسداران انقلاب پر عاید کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں