مشرق وسطیٰ میں امریکی کُمک بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہے: جواد ظریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں 1500 اضافی فوجیوں کو بھیجنے کا فیصلہ "بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ" ہے۔ انہوں نے یہ بات ہفتے کے روز پاکستان کے دورے سے واپسی سے قبل ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’ایرنا‘‘ سے گفتگو میں کہی۔

ظریف نے کہا کہ "ہمارے خطے میں امریکا اداروں کی موجودگی بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لئے انتہائی خطرناک ہے اور اس کا مقابلہ کیا جانا چاہیے"۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز 1500 اضافی فوجیوں کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کی منظوری دینے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے باور کرایا کہ مشرق وسطیٰ میں اضافی فورسز کی تعیناتی ایک "احتیاطی اقدام" ہے جس کا مقصد تحفظ فراہم کرنا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) نے جمعے کے روز بتایا کہ جس اضافی فورس کو مشرق وسطیٰ بھیجا جائے گا اس میں 900 نئے فوجی ہیں۔

پینٹاگان کے مطابق اضافی فورس میں پیٹریاٹ میزائل بیٹریز اور جاسوس طیاروں کے ماہرین کے علاوہ فوجی انجینئرز شامل ہیں تا کہ ایرانی خطرے کی روشنی میں دفاعی مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔ پینٹاگان نے واضح کیا کہ عراق اور شام میں کسی قسم کی اضافی فورسز تعینات نہیں کی جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں