امریکی جنگی بیڑے کو طیاروں اور عملے سمیت سمندر میں غرق کر سکتے ہیں: ایرانی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے جلو میں ایران کی سیاسی اور فوجی قیادت کی طرف سے سنگین نوعیت کے دھمکی آمیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران کے ایک سینیئر عسکری عہدیدار جنرل مرتضیٰ قربانی نے دعویٰ‌ کیا ہے کہ ایران، امریکا کے جنگی بیڑے کو ’’خفیہ ہتھیاروں اور میزائلوں‘‘ کے ذریعے خلیجی پانیوں میں عملے سمیت ڈبونے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

ایرانی فوج کے مشیر جنرل قربانی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا نے علاقائی پانیوں میں اپنے دو جنگی بیڑے بھیج کر سنگین غلطی اور بہت بڑی حماقت کی ہے۔ امریکی جنگی بیڑے، ان پر موجود طیارے اور دیگر عملہ ہمارے میزائلوں کے نشانے پر ہیں۔ ہم خفیہ ہتھیاروں یا میزائلوں کے ذریعے امریکی جنگی بیڑے کو اسلحہ اور فوج سمیت سمندر میں ڈبونے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی 'مھر' کے مطابق فوج کے ایک دوسرے سینیر عہدیدار بریگیڈیئر جنرل حسن سیفی امریکیوں پر زور دیا ہے کہ وہ دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا مگر مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ تاہم ایرانی عہدیداروں کے بیانات میں کھلا تضاد دکھائی دیتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں مزید 1500 فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اضافی فوج کی تعیناتی کی تجویز میں انہیں اپنی حکومت کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں