.

امریکا سے ثالثی کے چکر میں جواد ظریف عراق اور ان کے نائب کی قطر آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق نائب وزیرخارجہ عباس عراقجی آج بروز اتوار خلیجی ممالک قطر، سلطنت آف اومان اور کویت کے دورے پر روانہ ہوں گے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ ایک ایسے وقت میں خلیجی ممالک کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں جب دوسری جانب ایران کے اعلیٰ ترین سفارتکار اور وزیر خارجہ محمد جواد ظریف بھی اس وقت خطے کے ممالک کے طوفانی دورے کر رہے ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی قریب سمجھی جانے والی 'فارس' نیوز ایجنسی کے مطابق نائب وزیرخاجہ عباس عراقجی کے ساتھ ساتھ جواد ظریف بھی مخلتف ملکوں‌ کے دوروں پر ہیں۔ جواد ظریف پاکستان، ترکی، عراق اور دیگر ممالک کے دورے پر ہیں۔ ان دوروں کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے میں مدد حاصل کرنا ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقجی کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک کی طرف سے جوہری معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد نہیں کیا گیا مگر اس کے باوجود ایران صبرو تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

ادھر دوسری جانب گذشتہ روز ایرانی وزیر خارجہ ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ساتھ بغداد پہنچے۔ خبر رساں‌ایجنسی'ارنا' کے مطابق جواد ظریف اپنے عراقی ہم منصب محمد عبدالحکیم ، صدر برہم صالح اور وزیراعظم عادل المہدی سے ملاقات کریں گے۔

قبل ازیں جمعہ کو ایرانی وزیر خارجہ نے دورہ اسلام آباد کے دوران پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں۔

ایرانی وزراء کی سفارتی کوششوں کا مقصد مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
امریکا نے اپنے جنگی ہتھیار،جنگی طیارے اور فوج کی بھاری نفری مشرق وسطیٰ میں تعینات کر رکھی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید 1500 فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا بھی اعلان کیا ہے۔