.

خلیج اور مصر کے دشمنوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں: سربراہ عبوری کونسل سوڈان

خرطوم، یمن میں آئینی حکومت کی رٹ بحالی کے لیے سرگرم عرب اتحاد میں شامل رہے گا: جنرل البرھان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی عبوری عسکری کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرھان نے ہفتے کے روز اپنے دورہ مصر کے دوران مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی۔ قاہرہ میں دونوں‌ رہ نمائوں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دوطرفہ امور اور سوڈان کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

قاہرہ میں 'العربیہ' چینل کی نامہ نگار نے بتایا کہ صدر السیسی اور جنرل البرھان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں النہضہ ڈیم، جنوبی سوڈان کے ساتھ قیام امن، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سوڈان کے سیکیورٹی تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر مصری صدر السیسی نے سوڈانی عبوری کونسل کے سربراہ کو یقین دلایا کہ خرطوم کا پڑوسی ملک ہونے کے ناطے مصر، سوڈانی قوم کی ہر ممکن مدد کرے گا۔ انہوں‌ نے کہا کہ سوڈان میں حالیہ سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو بات چیت کے عمل میں شامل کرکے مسئلے کا پرامن حل نکالا جانا چاہیے۔

مصر اور خلیجی ممالک کا شکریہ

العربیہ کی نامہ نگار کے مطابق سوڈان کی عبوری فوجی کونسل کے سربراہ نے کہا کہ ان کا ملک ایسے کسی ملک کے ساتھ مراسم نہیں رکھے گا جو مصر کے مفادات کے خلاف کام کرے۔ اسی طرح کسی ایک خلیجی ملک کی قیمت پر دوسرے خلیجی ملک کے ساتھ تعلقات استوار نہیں کیے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل عبدالفتاح البرھان نے سوڈان کی مدد پر مصر اور خلیجی ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوڈان یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے قائم کردہ عرب اتحاد میں شامل رہے گا۔

انہوں‌ نے مصر، خلیجی عرب ممالک اور دوسرے ملکوں پر سوڈان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں‌ رہ نمائوں نے اسلحہ کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کےعزم کا بھی اظہار کیا۔

خیال رہے کہ سوڈان کی حکمراں فوجی کونسل کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان ہفتے کے روز مصر کے سرکاری دورے پر دارالحکومت قاہرہ پہنچ گئے ہیں۔ اپریل میں سوڈان کے مطلق العنان صدر عمر حسن البشیر کی معزولی اور عبوری فوجی کونسل کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔

ادھر سوڈان میں سابق صدر عمر البشیر کے خلاف تحریک چلانے والی تنظیموں اور جماعتوں نے اپنا احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔ ان کے قائدین فوجی کونسل سے اقتدار جلد سے جلد ایک شہری حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے فوجی کونسل سے شہری حکومت کے قیام کے لیے مذاکرات میں تعطل کے بعد منگل کے روز سے د و روزہ احتجاجی ہڑتال کا ا علان کیا ہے۔

احتجاجی تحریک کے لیڈروں اور فوجی جرنیلوں کے درمیان عبوری دور کے لیے نظم ونسق پر اختلافات پائے جاتے ہیں ۔