.

میڈیا میں تنقید کے بعد قطر کا بحرین اقتصادی کانفرنس میں شرکت کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست قطر کے ذرائع ابلاغ نے امریکا کی طرف سے فلسطینیوں کے لیے'اقتصادی امن کانفرنس' کے مناما میں انعقاد کے اعلان پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس کانفرنس میں شرکت کا بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا مگر اس دعوے کے برعکس اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے توسط سے معلوم ہوا ہے کہا ہے کہ دوحا حکومت مناما کانفرنس میں شرکت کے لیے تیار ہے۔

عبرانی اخبا 'ہارٹز' نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہ بتایا کہ قطر تیسرا ملک ہے جس نے فلسطین سے متعلق جون کے آخری ہفتے میں اقتصادی کانفرنس میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

گذشتہ ہفتے امریکا اور بحرین کی طرف سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ مناما 25 اور 26 جون کو دوحا میں اقتصادی امن کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ اس کانفرنس کا مقصد مشرق وسطیٰ‌ میں دیرپا امن کی کوششوں کو آگے بڑھانا اور 'خوش حالی کے بدلے امن' کے قیام کے فارمولے پر عمل درآمد کی راہ ہموار کرنا ہے۔

اس کانفرنس کا مقصد فلسطین میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا، فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن بات چیت کی بحالی کی کوشش اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکا کے امن منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے اقدامات کرنا ہے۔

گذشتہ روز قطری وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ دوحا عرب ممالک کے اعلیٰ مقاصد اور فلسطینی قوم کے مفادات کے لیے ہونے والی کوششوں کو آگے بڑھانے میں ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر، امریکی حکومت کے مطالبے پر فلسطین میں سرمایہ کاری کی کوششوں کو موجودہ حالات میں پیچیدہ سمجھتا ہے۔ اس وقت بنیادی اقتصادی ڈھانچے کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔