.

’’یمن کے لئے یو این ایلچی حوثی ملیشیا کو سند جواز فراہم کرنے میں کوشاں ہیں‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حکومت کی مشاورتی ٹیم نے اقوام متحدہ کے ایلچی مارٹن گریفیتھس پر ایران نواز حوثی ملیشیا کے لئے سند جواز حاصل کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے کے کے مندوب کی طرف سے حوثی ملیشیا کی یکطرفہ طور پر الحدیدہ سے انخلاء کی کوششوں کی حمایت کرنا باغیوں کو آئینی اور قانونی درجہ دلانے کے مترادف ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمنی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلی کوشش میں‌ ناکامی کے بعد حوثی ملیشیا نے ایک بار الحدیدہ، الصلیف اور راس عیسیٰ بندرگاہوں پر اپنے جنگجو تعینات کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم یہ حوثی باغیوں‌ کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ بدقسمتی سے حوثی ملیشیا کو اپنے مذموم عزائم کو آگے بڑھانے اور اسے آئینی شکل دینے کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی مارٹن گریفیتھس کی بھرپور حمایت اور تائید حاصل ہے۔

حکومتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی صرف نمائشی طور پر الحدیدہ سے اپنے جنگجوئوں کو نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہمارے لیے یہ امر حیران کن ہے کہ اقوام متحدہ بھی حوثی شدت پسندوں کے محض فرضی اور نمائشی انخلاء میں باغیوں کے ساتھ اور انہیں یمن میں آئینی حکومت کا درجہ دے رہی ہے۔

درایں اثناء یمن کے صدر عبد ربہ منصور ھادی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے امن مندوب مارٹن گریفیتھس اپنے دائرہ کار سے تجاوز کر رہے ہیں۔