.

یمنی حکومت نے اقوام متحدہ کے ایلچی کے ساتھ معاملات "معطل" کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیویارک میں العربیہ کے نمائندے طلال الحاج کے مطابق یمن کی آئینی حکومت اس وقت یمن کے لیے بین الاقوامی ایلچی مارٹن گریفتھس کے ساتھ معاملات کو مسترد کر رہی ہے۔

نمائندے کے مطابق یمنی حکومت اس بات کی ضمانت طلب کر رہی ہے کہ گریفتھس کی جانب سے آئندہ اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا جائے گا۔

ایک اعلی یمنی عہدے دار کے مطابق صدر عبدربہ منصور ہادی اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے درمیان ملاقات کا تعین آئندہ عرصے میں کیا جائے گا اور یہ یقینا عید الفطر کی تعطیلات کے بعد ہو گی۔ عہدے دار نے زور دیا کہ گریفتھس کے ساتھ معاملات کو مذکورہ ملاقات تک ملتوی کر دیا جائے گا کیوں کہ یمنی حکومت نے خصوصی ایلچی کی موجودگی کے بغیر اس اجلاس کے انقعاد کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سے قبل یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی نے بدھ کی شام اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو بھیجے گئے ایک خط میں یمن کے لیے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس کی جانب سے سامنے آنے والے اختیارات سے تجاوز کا ذکر کیا۔

ہادی نے واضح کیا کہ گریفتھس اس بات پر مُصر ہیں کہ حوثیوں کے ساتھ ایک باقاعدہ حکومت کی طرح معاملہ کیا جائے اور وہ باغیوں کو آئینی حکومت کے مساوی درجہ دے رہے ہیں۔ ہادی نے مزید کہا کہ حوثیوں کے عقائد ، نظریات اور سیاسی افکار سے لا علم ہونے کے سبب اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی یمن کے مسئلے کو نمٹانے کی قدرت نہیں رکھتے۔ یمنی صدر نے کہا کہ گریفتھس نے قیدیوں اور گرفتار شدگان کے معاملے کے علاوہ دیگر اہم شقوں پر کام بھی روک دیا ہے۔

اس کے جواب میں انتونیو گوتریس نے منصور ہادی کو باور کرایا ہے کہ اقوام متحدہ اس معاملے کو زیر بحث لانے کے لیے تیار ہے۔