.

ادلب میں شامی حکومت کے طیاروں کی بم باری ، 18 شہری جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق پیر کے روز ادلب صوبے میں شامی حکومت کے طیاروں کے حملوں میں 6 بچوں سمیت کم از کم 18 شہری جاں بحق ہو گئے۔

المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے بتایا ہے کہ مجموعی ہلاکتوں میں 10 ادلب کے جنوبی شہر اریحا میں واقع ہوئیں، ان میں 4 بچے شامل ہیں۔

المرصد کے مطابق اتوار کے روز بھی ان ہی علاقوں میں شامی حکومت کے فوجی طیاروں کی بم باری میں 12 شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

اریحا میں بم باری کے بعد سفید ہیلمٹ والے امدادی کارکنان نے حملے میں منہدم ہونے والے ایک گھر کے ملبے کے نیچے سے ایک بچے کو زندہ نکال لیا۔

المرصد کے مطابق اپریل کے اواخر سے اس علاقے میں شروع ہونے والی تشدد کی لہر میں اب تک 250 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں تقریبا 50 بچے شامل ہیں۔

ادلب صوبے کے بڑے حصے پر ہیئۃ تحریر الشام تنظیم کا کنٹرول ہے جب کہ اپوزیشن کے دیگر گروپ بھی صوبے میں سرگرم ہیں۔ یہ علاقہ روس اور ترکی کے درمیان اُس سمجھوتے میں شامل ہے جس کے تحت یہاں ہتھیاروں سے پاک ایک زون قائم ہونا تھا جو شامی حکومت کی فورسز اور اپوزیشن گروپوں کے درمیان فصیل قائم کرے۔ تاہم اس سمجھوتے پر عمل درامد نہیں ہو سکا۔

گذشتہ برس ستمبر میں مذکورہ معاہدے پر دستخط کے بعد علاقے میں نسبتا سکون دیکھا گیا۔ ترکی نے معاہدے پر عمل درامد پر نظر رکھنے کے لیے نگرانی کی کئی چیک پوسٹیں قائم کیں تاہم شامی حکومت کی فورسز نے رواں سال فروری سے بم باری کو وتیرہ بنا لیا۔ بعد ازاں روسی طیارے بھی ان کارروائیوں میں شامل ہو گئے۔

دمشق میں بشار حکومت کی جانب سے انقرہ پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ معاہدے پر عمل درامد میں تاخیر کر رہا ہے۔ تاہم ترکی کے وزیر دفاع خلوصی آکار نے گزشتہ ہفتے منگل کی شب بشار حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ فائر بندی کے معاہدے کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اپریل کے اواخر سے بم باری اور لڑائی کے نتیجے میں تقریبا 2 لاکھ افراد بے گھر ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ اس دوران حملوں میں 20 طبی مراکز بھی لپیٹ میں آئے جن میں 19 اب بھی خدمات پیش کرنے کے قابل نہیں ہیں۔