.

ایران امریکا ثالثی کی جاپانی پیش کش جواد ظریف نے نظر انداز کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ نے جاپان کی جانب سے تہران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پیش کش کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کو ایران سے مذاکرات کی اپنی نیت کا اظہار الفاظ کی بجائے عمل کر کے دکھانا ہو گا۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ٹویٹر پر جاری ایک ٹویٹ پر کہا کہ " ڈونلڈ ٹرمپ کی نیت کا اظہار الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے ہوگا۔"

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سرکاری دورے پر جاپان آئے ہوئے ہیں جہاں پر انہوں نے جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے کی جانب سے ایران اور امریکا میں ثالثی کی پیش کش پر اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ "مجھے یقین ہے کہ ایران مذاکرات پر آئے گا اور اگر ایران کو مذاکرات کرنا ہیں تو امریکا بھی تیار ہے۔"

جواد ظریف نے اپنی ٹویٹ میں مزید لکھا تھا کہ امریکی صدر کی جانب سے ایران پر معاشی بوجھ کی وجہ سے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اسے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے کی منسوخی کے بعد تہران کو واشنگٹن سے مذاکرات میں دلچسپی نہیں ہے۔

مذاکرات کا امکان نہیں

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کا امکان پیدا ہونے نہیں دیکھ رہا ہے۔ یہ بیان امریکی صدر کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر نئے معاہدے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔

امریکا پچھلے سال ایران کے ساتھ عالمی قوتوں کے جوہری معاہدے سے باہر نکل گیا تھا اور ایران پر معاشی پابندیوں کا شکنجہ ایک بار پھر سخت کر دیا گیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ "میرے خیال میں ایران ہم سے معاہدہ کر لے گا اور اگر وہ ایسا کر لیں تو یہ ان کی سمجھداری ہو گی۔"

جب تہران میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سے اس بیان پر ردعمل مانگا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ "ہم اس موقع پر امریکا سے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں دیکھتے ہیں۔ ایران کو بے وزن الفاظ کی قدر نہیں۔ ہمیں عمل دیکھ کر امریکا کی نیت کا اندازہ ہوگا۔"