.

ایران کے ساتھ کشیدگی کے جلو میں جان بولٹن کا دورہ امارات کیا معنی رکھتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدہ صورحال کے پیش نظر امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن رواں ہفتے متحدہ عرب امارات کے دورے پر ابو ظبی پہنچ رہے ہیں۔ بولٹن ایک ایسے وقت میں امارات کا دورہ کر رہے ہیں جب دوسری جانب سعودی عرب کی میزبانی میں عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم ’’او آئی سی‘‘ کے سربراہ اجلاس بھی منعقد ہو رہے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی'اے ایف پی' نے متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارت خانے کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جان بولٹن اماراتی حکام کے ساتھ رواں‌ ہفتے ابو ظبی میں مذاکرات کریں‌ گے، تاہم ذرائع نے جون بولٹن کے دورے کی تاریخ‌ بیان نہیں کی۔

خیال رہے کہ اس وقت خلیج اور مشرق اوسط کا خطہ ایران اور امریکا کی باہمی کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ یہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی تھی جب امریکا نے ایرانی تیل کی عالمی منڈی میں برآمد پر پابندی عاید کر دی تھی۔

جمعرات کے روز سعودی عرب کی میزبانی میں خلیجی اور عرب سربراہ کانفرنسیں جب کہ آئندہ جمعہ کو اسلامی تعاون تنظیم کا اجلاس بھی سعودی عرب میں ہو گا۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جان بولٹن کو ٹرمپ انتظامیہ میں 'مرد جنگ' تصور کیا جاتا ہے۔ بولٹن امریکا میں نیو کنزرویٹیو گروپ سے وابستہ ہیں اور ایران کے حوالے سے انتہائی سخت موقف رکھتے ہیں۔