.

تہران جنگ کے عفریت سے فائدہ اٹھا رہا ہے: ایرانی تجزیہ کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

واشنگٹن میں NEW IRAN تنظیم کے بانی رکن، سیاسی کارکن اور ایرانی امریکی امور کے تجزیہ کار علی رضا نادر کے نزدیک ایرانی نظام ایسے مرحلے کے قریب آ رہا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں اور اس وقت اُسے اپنے معاندانہ برتاؤ کے سبب اندرونی شورشوں اور شدید بیرونی دباؤ کا سامنا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے انٹرویو میں نادر نے باور کرایا کہ "امریکا اور ایران دونوں ہی عسکری تصادم نہیں چاہتے ہیں۔ تاہم ایرانی نظام ممکنہ جنگ کے حوالے سے خوف کی فضا قائم کر کے فائدہ اٹھا رہا ہے. ایرانی حکمراں نظام ایک طرف جنگ چھڑنے کے امکان کو پھیلا کر غیض و غضب کے شکار ایرانیوں کو ڈرا رہا ہے اور دوسری طرف امریکا میں "جنگ مخالف" لابی کی مدد کر رہا ہے تا کہ وہ تہران کے مفاد میں حرکت میں آئے"۔

تہران پر امریکی پابندیوں کے اثرات کے حوالے سے نادر کا کہنا تھا کہ "ایرانی حکومت بڑے پیمانے پر تیل کی برآمدات پر انحصار کرتی ہے جو امریکی پابندیوں کے سبب بڑی حد تک کم ہو چکی ہیں۔ لہذا ایرانی نطام کو وسیع پیمانے پر داخلی شورشوں کا سامنا ہے"۔

نادر کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور بقیہ حکمراں طبقہ یہ جانتا ہے کہ عوام ان سے کس حد تک نفرت کرتے ہیں اور ان لوگوں کو سول نافرمانی یا انقلاب کی تحریک بھڑکنے کا اندیشہ ہے۔

نادر کے نزدیک امریکی پابندیوں نے ایرانی عوام پر بھی شدید دباؤ ڈالا ہے مگر عوام یہ جانتے ہیں کہ اس کا سبب صرف ایرانی حکمراں نظام ہے۔ اس بات کی دلیل گذشتہ برس سڑکوں پر احتجاج کرنے والوں کا وہ نعرہ تھا جس میں انہوں نے کہا کہ "ہمارا دشمن یہاں ایران میں ہے جب کہ حکمراں جھوٹ بولتے ہیں کہ دشمن امریکا ہے"۔

نادر کے مطابق ایرانی عوام جانتے ہیں کہ امریکی پابندیاں ان کے مسائل کے پیچھے کار فرما واحد محرک نہیں بلکہ بدعنوانی، بد انتظامی اور کریک ڈاؤن کے 40 برس، یہ وہ مرکزی اسباب ہیں جنہوں نے ایران کو اقتصادی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

ایرانی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ امریکا کو چاہیے کہ وہ ایران کی جمہوری اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنائے اور ان کی قیادت کے ساتھ اعلانیہ طور پر ملاقات کرے۔

ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے امکان کے حوالے سے نادر نے کہا کہ "ایسا نظریاتی نظام جس کے بارے میں ثابت ہو چکا ہے کہ یہ ناقابل اصلاح ہے اور اپنے برتاؤ میں تبدیلی نہیں لا سکتا، اس کے ساتھ مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں گے"۔

نادر نے اپنے گفتگو کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا "امریکا کے لیے بہترین حلیف ایرانی عوام کی توقعات ہیں، نہ کہ ایرانی نظام جیسی ایک بدعنوان مافیا کے ساتھ مذاکرات کرنا"۔