.

ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" جہنم واصل ہو گی: فلسطینی صدر

بحرین اقتصادی کانفرنس اور صدی کے ڈیل سے متعلق محمود عباس کا یہ سب سے زیادہ شدید ردعمل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس نے باور کرایا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا حل سیاسی قضیے سے شروع ہونا چاہیے۔ انہوں نے صدی کی ڈیل کو "شرمناک سمجھوتا" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ "جہنم" میں جائے گا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ جون کے اواخر میں بحرین میں ہونے والی کانفرنس میں پیش کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن کا قیام ہے۔

توقع ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے "صدی کی ڈیل" قرار دیا جانے والا یہ منصوبہ سیاسی معاملات ٹھیک کرنے سے قبل مالی امداد دینے والے عرب ممالک کی اس بات پر حوصلہ افزائی کرے گا کہ وہ مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں سرمایہ کاری کریں۔

فلسطینی سرکاری خبر رساں ایجنسی WAFA کے مطابق صدر محمود عباس نے پیر کے روز اپنے بیان میں کہا کہ "جو کوئی مسئلہ فلسطین کا حل چاہتا ہے اسے چاہیے کہ سیاسی قضیے سے آغاز کرے نہ کہ اربوں کے مفروضوں کو فروخت کر کے جن پر ہم نے کوئی امید نہیں باندھی ہے۔ اس لیے کہ ہمارا مسئلہ نمایاں طور پر سیاسی حیثیت رکھتا ہے"۔

رام اللہ میں محمود عباس فاؤنڈیشن کے لیے عطیات دینے والوں کے اعزاز میں منعقد تقریب کے دوران فلسطینی صدر کا کہنا تھا کہ "ہم قدم بقدم آگے بڑھ رہے ہیں اور اللہ کے حکم سے ایک خود مختار فلسطینی ریاست کے انجام تک پہنچ جائیں گے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو گا۔ جہاں تک شرمناک سمجھوتے یا صدی کی ڈیل کی بات ہے تو وہ اللہ کے حکم سے جہنم میں جائے گی۔ اسی طرح آئندہ ماہ جس اقتصادی منصوبے پر یہ لوگ کام کر رہے ہیں وہ بھی جہنم واصل ہو گا"۔

اس سے قبل پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن واصل ابو یوسف نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا کہ محمود عباس بحرین کانفرنس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کریں گے۔ فلسطینی صدر سعودی عرب میں عرب لیگ اور اسلامی سربراہ کانفرنس کے اجلاسوں میں شریک ممالک کے سامنے اُس اقتصادی ورک شاپ کے بائیکاٹ کا مطالبہ رکھیں گے جو امریکی انتظامیہ آئندہ ماہ بحرین میں منعقد کروا رہی ہے۔

رام اللہ میں فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ نے پیر کے روز حکومت کے ہفتہ وار اجلاس میں واضح کیا کہ "سعودی عرب میں اپنے خطاب میں محمود عباس خطے میں سیاسی پیش رفت کے حوالے سے فلسطینی موقف پیش کریں گے۔ وہ عرب اور مسلم قیادت سے مطالبہ کریں گے کہ فلسطین کے حوالے سے اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔ وہ باور کرائیں گے کہ فلسطین خطے میں امن اور سلامتی کی کنجی ہے"۔