.

پابندیوں نے حزب اللہ کو تھکا ڈالا، شام سے بتدریج انخلا جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو موصول ہونے والی خصوصی معلومات کے مطابق لبنانی ملیشیا حزب للہ نے بھاری جانی نقصان کے نتیجے میں شام میں لڑائی کے باقی ماندہ علاقوں سے بتدریج انخلا کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم اس اقدام کا اہم ترین سبب "اخراجات میں کمی" لانا ہے۔

اس کے علاوہ شام کے بعض علاقوں سے حزب اللہ کے بتدریج انخلا کی وجہ روسی افواج کی جانب سے فضائی کور کا نہ ہونا ہے جس کے سبب لبنانی ملیشیا کے عسکری اڈے اسرائیلی فضائی حملوں اور شامی اپوزیشن کی بعض قوتوں کی ضربوں کے لیے بالکل کھلا شکار بن چکے ہیں۔

بعض معلومات کے مطابق روس نے "حزب الله" اور ایران نواز ملیشیاؤں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ حمص کے مغربی اور جنوبی دیہی علاقوں کو چھوڑ دیں۔

شام کے معاملے پر نظر رکھنے والے حلقوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حمص اور شامی ساحل (لاذقيہ اور طرطوس) کو "حزب الله" اور ایرانیوں سے پاک کرنا دراصل امریکا کی بنیادی شرط ہے جو اس نے سیاسی عمل میں شرکت کے لیے واپسی کے واسطے رکھی ہے۔

باخبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ امریکی اور اس سے زیادہ روسی دباؤ کے سبب شام میں ایران کا پیچھے ہٹنے کا عمل نظر آ رہا ہے۔ روس اس طرح واشنگٹن کو ایک مثبت پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ لچک لبنان کی جانب سے بھی سامنے آئی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے امور کے لیے امریکی وزیر خارجہ کے نائب ڈیوڈ سیٹرفیلڈ بیروت اور تل ابیب کے درمیان سمندری حدود کا تنازع ختم کرانے کے لیے سرگرم ہیں۔

باخبر ذرائع کے مطابق "حزب الله" تنظیم ،،، سمندری تنازع کے حل کے لیے لبنان اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے واسطے مذاکرات میں امریکی وساطت اور اقوام متحدہ کی سرپرستی پر آمادگی میں تساہل کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ اس کا سبب "ايران" نظر آتا ہے۔

تاہم مذکورہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کا یہ پلٹنا ایک "تدبیر" ہے جس کا معنی حتمی طور پر پیچھے ہٹنا نہیں ہے۔ اس کا مقصد واشنگٹن کے حوالے سے اچھی نیت کا اظہار ہے تا کہ تہران پر دباؤ کو کم کرایا جائے۔

ایران پر امریکی پابندیوں کا بھرپور اثر "حزب الله" پر بھی پڑا ہے۔ بالخصوص جب کہ ایرانی حکمراں نظام تیل سے حاصل آمدنی میں سے سالانہ 70 کروڑ ڈالر حزب اللہ پر خرچ کرتا تھا۔ تاہم امریکا کی نئی حکمت عملی کے نتیجے میں یہ اخراجات قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔

امریکی پابندیوں نے شام میں محاذوں پر حزب اللہ کے جنگجوؤں کی تعداد میں کمی میں بھی کردار ادا کیا۔ اس کا سبب بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں کیوں کہ حزب اللہ شام میں اپنے جنگجوؤں اور "شہداء کے خاندانوں" کی کفالت کے ساتھ ساتھ طبی سہولیات بھی فراہم کر رہی ہے۔

حزب اللہ پر پابندیوں کے منفی اثرات کہاں تک پہنچ چکے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لبنانی ملیشیا نے رواں سال 25 مئی کو جنوبی لبنان کو اسرائیل سے آزاد کرانے کے 19 سال پورے ہونے پر کوئی تقریب نہیں منائی۔ واضح رہے کہ یہ حزب اللہ کی جماعتی سرگرمیوں کے کیلنڈر میں ایک اہم ایونٹ کے طور پر درج ہوتا ہے۔

رواں سال اس آزادی کو منانے کی مرکزی تقریب منعقد نہیں ہو سکی کیوں کہ اس کے واسطے ضخیم فنڈنگ درکار ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ "يوم القدس" جس کو حزب اللہ دو تقریبات میں مناتی ہے ، اسے بھی مالی اخراجات میں کمی لانے کے واسطے ایک تقریب تک محدود کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آنے والے مرحلے میں حزب اللہ کو گہری تشویش کا سامنا ہے ،،، اور وہ بڑے پیمانے پر اپنے اخراجات میں کمی لا کر ایران پر امریکی پابندیوں سے ہم آہنگ ہونے کی تگ و دو میں ہے۔