.

قطری میڈیا بحرین میں فلسطین کانفرنس پر تنقید میں پیش پیش ،مگر حکومت کا اعلانِ شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر نے جون میں بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکا کی قیادت میں فلسطینی علاقوں میں سرمایہ کاری کے موضوع پر ہونےو الی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کا اعلان کیا ہے مگر اس کے ملکیتی میڈیا اداروں نے اس کانفرنس کے خلاف باقاعدہ ایک تنقید ی مہم برپا کررکھی ہے۔

قطر کی وزارت خارجہ نے 24 مئی کو ایک بیان میں امریکا کی طلب کردہ اس کانفرنس میں شریک ہونے کی تصدیق کی تھی۔یہ توقع کی جارہی ہے کہ اس کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ کئی ماہ سے صیغہ راز میں رکھے گئے مجوزہ امن منصوبے کے پہلے حصے کا اعلان کیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ اپنے اس مجوزہ منصوبے کو ’’ صدی کی ڈیل‘‘ قرار دے رہے ہیں۔اس منصوبے اور کانفرنس کے انعقاد کا مقصد فلسطینی علاقوں ۔۔۔غربِ اردن اور غزہ کی پٹی۔۔۔ میں عرب ممالک کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔اس کے بعد تصفیہ طلب متنازع امور کا کوئی حل پیش کیا جائے گا۔

قطر ی میڈیا اس مجوزہ کانفرنس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔ قطر کے ملکیتی الجزیرہ نیوز چینل کے ایک سینیر اینکر اور ماڈریٹر جمال ریان نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے:’’ کیا آپ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کی بحرین میں ایک ایسی اقتصادی کانفرنس کے انعقاد کے لیے حمایت کرتے ہیں جس کا مقصد ’صدی کی ڈیل‘ کے لیے مالی وسائل مہیا کرنا اور اور فلسطینی کاز کو موت کی نیند سلانا ہے؟‘‘

مڈل ایسٹ مانیٹر نے منامہ کانفرنس کے بارے میں متعدد مضامین شائع کیے ہیں۔ان میں ایک مضمون کے لکھاری یوں رقم طراز ہوئے ہیں:’’ اسرائیل نواز ایک امریکی ٹیم امریکا کا امن منصوبہ بحرین کے دارالحکومت میں ایک گیلری میں منتظر وزرائے خزانہ ، کاروباری شخصیات اور خواتین کے سامنے جبری طور پر پیش کرے گی ‘‘۔

ایک اور صاحب لکھتے ہیں :’’ بحرین کانفرنس رسید سے قبل رقم کی ادائی کے اصول کی بنیاد پر منعقد کی جارہی ہے کیونکہ فلسطینیوں ، اردنیوں اور عربوں کو عمومی طور پر اپنے وقار ، تقدس اور ریاست کی قیمت چکانا ہوگی ‘‘۔

مڈل ایسٹ مانیٹر میں شائع شدہ ایک تیسرے مضمون میں لکھا ہے کہ’’ یہ تازہ کھیل فلسطینیوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کے طور پر بحرین کے دارالحکومت منامہ میں کانفرنس کی شکل میں کھیلا جارہا ہے‘‘۔

قطری میڈیا کا بلیک آؤٹ

قطری میڈیا کے ان حملوں کے باوجود قطر نے اس کانفرنس میں شرکت کا اعلان کیا ہے لیکن اس کے میڈیا نے اس خبر کا بلیک آؤٹ کیا ہے۔

الجزیرہ کے نیوز اینکر ریان نے ایک مرتبہ پھر ٹویٹر پر طبع آزمائی کی ہے۔انھوں نے لکھا ہے:’’ سعودی عرب بحرین میں کانفرنس کا اہتمام کررہا ہے اور اس کے لیے مالی وسائل مہیا کررہا ہے۔اس کا مقصد فلسطینی کاز کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ فلسطینی کابینہ نے مئی کے اوائل میں امریکا کی قیادت میں اس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ فلسطینیوں سے اس کانفرنس کے بارے میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے۔

متحدہ عرب امارات نے اس کانفرنس کا خیرمقدم کیا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ ’’اس کا مقصد فلسطینی عوام کو مصائب کے جھنجھٹ سے نکالنا ہے اور انھیں ایک مستحکم اور خوش حال مستقبل کے قابل بنانا ہے‘‘۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیر عہدہ دار کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کا مقصد خطے کے لوگوں کو ایک موقع فراہم کرنا اور انھیں یہ باور کرانا ہے کہ اگر خطے میں دیرینہ تصفیہ طلب سیاسی مسائل کو حل کر لیا جاتا ہے تو پھر اس سے کتنے معاشی مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔