.

ادلب حملوں میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد ملے ہیں: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں وائی ویس لی دریان نے منگل کے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام کے شہر ادلب میں حالیہ حملوں کے دوران کیمیائی ہتھیاروں‌ کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے بتایا کہ شام کے شمال مغربی شہر ادلب میں بشار الاسد فوج کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کئے جانے کے اشارے ملے ہیں۔

لی دریان نے نیشنل اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں کچھ ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادلب کے علاقے میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں تاہم ان کی مزید تحقیق اور چھان بین کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 22 مئی کو امریکا نے کہا تھا کہ ادلب میں اسد رجیم کی طرف سے شہریوں‌ کے خلاف حملوں میں کلورین گیس جیسے خطرناک ہتھیاروں‌ کے استعمال کے اشارے ملے ہیں۔

امریکی صدر نے خبردار کیا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ’سرخ لکیر‘ عبور کرنے کے مترادف ہو گا۔ امریکا اس سے قبل دو مرتبہ شام میں اسد رجیم کی تنصیبات کو کیمیائی ہتھیاروں‌ کے استعمال کی پاداش میں حملوں کا نشانہ بنا چکا ہے۔ اپریل 2017ء کو خان شیخون کے مقام پر شامی فوج نے سیرین کیمیائی گیس کا استعمال کیا اور دوسری مرتبہ دمشق کے قریب دوما میں مہلک گیس استعمال کی گئی تھی۔ ان واقعات کے بعد امریکا اور فرانس نے اسد رجیم کے خلاف مشترکہ کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔

دوسری جانب اسد رجیم نے ادلب میں‌ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کی ہے۔ درایں اثناء کل منگل کو ادلب اور حلب میں اسد رجیم کی بمباری کے نتیجے میں 21 شہری جاں بحق ہو گئے۔ ادلب شامی اپوزیشن اور انتہا پسند گروپوں کا آخری مرکز ہے اور بشارالاسد کی حکومت یہاں پر بھی طاقت کے استعمال کی تیاری کر رہی ہے۔