.

ادلب میں بشار کی فوج کی برستی آگ ، مزید 10 شہریوں کی جانیں گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں بدھ کے روز بشار کی فوج کی فضائی بم باری کے نتیجے میں کم از کم 10 شہری جاں بحق ہو گئے۔ شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق حملے میں مسلح افراد کے زیر کنٹرول علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

المرصد نے بتایا کہ کہ جاں بحق ہونے دس شہریوں میں سے سات افراد ادلب کے گاؤں سرجہ پر بم باری کے دوران نشانہ بنے۔

المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے باور کرایا ہے کہ بشار حکومت اور روس کی جانب سے کئی علاقوں پر شدید بم باری کا سلسلہ جاری ہے۔ روسی حملوں کا مرکز خان شیخون شہر اور اس کے نواحی علاقے ہیں۔

المرصد کے مطابق اتوار کے روز سے ادلب صوبے میں شامی حکومت کی بم باری اور توپوں سے گولہ باری کے نتیجے میں اب تک 50 سے زیادہ شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں کئی بچے شامل ہیں۔

ادلب صوبے کا بڑا حصہ اور حلب، حماہ اور لاذقیہ صوبوں کے کچھ حصے ہیئۃ تحریر الشام کے زیر کنٹرول ہیں جو شام میں القاعدہ تنظیم کی شاخ ہے۔ بشار حکومت کی فورسز ادلب کے جنوب مشرقی اور مشرقی حصے کے علاوہ مذکورہ تینوں صوبوں کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتی ہیں۔

منگل کے روز ادلب اور حلب صوبوں کے مختلف علاقوں پر بشار کی فوج کی بم باری میں 11 بچوں سمیت کم از کم 27 شہری موت کی نیند سلا دیے گئے۔ ان علاقوں میں تقریبا ایک ماہ سے بم باری کا سلسلہ جاری رہے۔

اس دوران اپریل کے اختتام کے بعد سے بشار کی فوج ادلب صوبے کے جنوب اور حماہ صوبے کے شمال میں بعض علاقے واپس لینے میں کامیاب ہو گئی۔

دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگاس نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "شہریوں اور انفرا اسٹرکچر مثلا اسکولوں، بازاروں اور ہسپتالوں پر حملوں نے غیر ذمے دارانہ اور نا قابل قبول جارحیت کو جنم دیا ہے"۔

ادھر عالمی سلامتی کونسل کے سامنے اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری کی معاون برائے انسانی امور اورسولا مولر نے منگل کے روز اس امر کی تصدیق کی کہ اپریل کے اواخر سے جاری پرتشدد کارروائیوں کے سبب تقریبا 2.7 لاکھ افراد ہجرت پر مجبور ہو گئے اور امدادی تنظیموں نے متعدد سیکٹروں میں اپنا کام روک دیا ہے۔