.

حوثیوں کے لیے اقوام متحدہ کی سپورٹ یمنیوں کی جانوں کی بے توقیری ہے : الاریانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی جانب سے منگل کے روز یمن میں باغی حوثی ملیشیا کو 20 فور وہیل ڈرائیو گاڑیاں دینے کا اعلان کیا گیا۔ یہ پیش رفت بارودی سرنگوں کے خاتمے کے پروگرام کی سپورٹ کے سلسلے میں سامنے آئی ہے۔ ادھر یمنی حکومت کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے اقوام متحدہ کی جانب سے حوثیوں کو پیش کی جانے والی سپورٹ کو شرم ناک اور یمنیوں کی جانوں کی بے توقیری قرار دیا۔

الاریانی نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ "اقوام متحدہ کے زیر انتظامUNDP پروگرام کی جانب سے یمن میں بارودی سرنگوں کے خاتمے کی کارروائیوں کو سپورٹ کرنے کے لیے 20 عدد فور وہیل ڈرائیو گاڑیاں ایران نواز حوثی ملیشیا کے حوالے کی گئی ہیں۔ حوثی ملیشیا ان گاڑیوں کو الضالع اور الحدیدہ صوبوں میں اپنی لڑائی کی کارروائیوں میں کام میں لائے گی۔ یہ یقینا اقوام متحدہ کی جانب سے ایک نیا اسکینڈل اور یمنیوں کی جانوں کی خطرناک حد تک بے توقیری ہے"۔

یمنی وزیر نے مزید کہا کہ "4 برس قبل آئینی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے حوثی ملیشیا نے کسی ایک بارودی سرنگ کو ہٹانے کا اعلان نہیں کیا۔ اس کے مقابل باغیوں نے مختلف نوعیت کی لاکھوں بارودی سرنگیں بچھائیں۔ حوثی قیادت نے کئی بار میڈیا پر نمودار ہو کر بارودی سرنگوں اور دھماکا خیز مواد تیار کرنے والی فیکٹریوں پر فخر ک اظہار کیا جن کا شکار ہو کر ہزاروں شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے"۔

صنعاء میں بارودی سرنگوں کے انسداد کے قومی پروگرام پر باغیوں کا کنٹرول ہے۔ وہ مزید بارودی سرنگیں بچھانے اور نصب کرنے کے لیے اپنی انسانی اور تکنیکی استعداد کو استعمال کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے حوثیوں کو فور وہیل ڈرائیو گاڑیاں دیے جانے پر یمنی حلقوں میں وسیع پیمانے پر غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔