.

خلیجی ممالک ایران سے کیا چاہتے ہیں؟ جانیے اس رپورٹ میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی عرب ریاستیں اپنے عجم ہمسایہ ملک ایران سے زیادہ کچھ نہیں مانگتی ہیں۔ تہران سے ان کے مطالبے کو دو لفظوں میں بیان کیا جائے تو وہ ’’اچھی ہمسائیگی‘‘ کہلائے گا۔ کہنے کو یہ انتہائی سادہ مطالبہ ہے لیکن خطے میں ایران کی گذشتہ چالیس سالہ پالیسوں نے اپنے مسئلہ فیثا غورث بنا رکھا ہے۔

ایران سے خلیجی ملکوں کے مطالبات کو مختصرا درج ذیل نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے:

  • اچھی ہمسائیگی کا پاس اور ملکوں کی آزادی کا احترام۔
  • خلیجی ریاستوں کے معاملات میں مداخلت سے احتراز۔
  • فوجی طاقت یا اس کے استعمال کی دھمکی سے امتناع۔
  • یمن میں حوثی ملیشیا کی حمایت سے دست کشی۔
  • یمن سے متعلق یو این سیکیورٹی کونسل کی قرارداوں کا احترام۔
  • حوثیوں کو میزائل ٹکنالوجی دینے سے احتراز
  • شام سے ایرانی فوج اور اس کی حامی ملیشیاؤں کا انخلاء
  • حزب اللہ کے ذریعے لبنان کے استحکام کو گزند پہنچانا
  • جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے توبہ
  • امارات کے جزائر کی ملکیت کے تنازع کا مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے حل

سعودی فرمانروا کی دعوت پر بلائے گئے خلیجی، عرب اور اسلامی رہنماؤں کے اجلاسوں میں عرب خطے میں ایرانی دھمکیاں ایجنڈے کا سب سے اہم نقطہ ہیں۔ یہ اجلاس جمعرات اور جمعہ کو ہو رہے ہیں۔

اس بات کا امکان ہے کہ ایرانی دھمکیوں پر #مکہ_سمٹ میں تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد انہیں روکنے کے طریقوں پر غور کیا جائے بالخصوص اماراتی سمندری حدود میں فجیرہ کے قریب دو سعودی آئل ٹینکروں اور سعودی عرب کے آئل پمپنگ اسٹیشنوں پر حملوں کے تناظر میں اس دھمکیوں پر گفتگو کا امکان بڑھ گیا ہے۔ الزام ہے کہ ان حملوں کو ایرانی ایجنٹوں نے سپاہ پاسداران انقلاب کے حکم پر عملی جامہ پہنایا ہے۔