.

خلیج میں ایرانی مداخلت پر عرب اور اسلامی دنیا کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ملک ایک سے زیادہ مرتبہ ایران کے جارحانہ حملوں کا نشانہ بند چکا ہے۔ جارح ہمسایہ کے خلاف عرب ملکوں نے ہمیشہ کسی جوابی کارروائی کے بجائے علاقائی اور عالمی فورمز سے داد رسی چاہی۔ زیر نظر رپورٹ میں ایرانی جارحیت کے چند اہم سنگ میل اور ان پر علاقائی اور بین الاقوامی فورمز کا ردعمل بیان کیا جا رہا ہے۔

اپریل 2016
ایران میں سعودی سفارتی مشنز پر حملوں کی اسلامی تعاون کی تنظیم کی جانب سے مذمت
مارچ 2017
ایران سے متعلق عرب کمیٹی کا خلیجی ممالک کے امور میں ایرانی مداخلت پر اظہار مذمت
جنوری 2018
اسلامی تعاون کی تنظیم کی جانب سے سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل حملے کی مذمت
جنوری 2018
ایران کی جانب سے بین الاقوامی برادری کی بات ماننے سے انکار پر اسلامی تعاون کی تنظیم کا اظہار افسوس
مارچ 2018
حوثیوں کے سعودی عرب پر میزائل حملے کی متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے مذمت
مارچ 2018
بحرین اور متحدہ عرب امارات نے اس امر کی تائید کر دی کہ ایران خطے میں افراتفری پھیلانے پر تلا ہوا ہے۔
اپریل2018
عرب پارلیمنٹ کی جانب سے یمن میں ایرانی مداخلت کی مذمت
ستمبر 2018
ایران سے متعلق عرب کمیٹی کی سعودی عرب پر ایرانی میزائل داغنے کی مذمت
مارچ 2019
ایران سے متعلق عرب کمیٹی کی یمن میں حوثی ملیشا کو اسلحہ فراہمی پر تہران کی مذمت

تادم تحریر ایران کے خلیجی ملکوں کے خلاف جارحانہ اقدامات کا سلسلہ جاری ہے اور انہی کے آگے بند باندھنے کے لئے ایک مرتبہ پھر سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے علاقائی، عرب اور اسلامی فورمز سے مدد چاہی ہے۔