.

امریکا اور متحدہ عرب امارات کا دفاعی سمجھوتے پرعمل درآمد کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور متحدہ عرب امارات نے رواں سال طے پانے والے دفاعی معاہدے پر باضابطہ عمل درآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں‌ نے ایک دوسرے کے ساتھ فوجی اور دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ ابو ظبی اور واشنگٹن کا کہنا ہے کہ موجودہ وقت اور حالات باہمی عسکری، سیاسی اور مضبوط اقتصادی شراکت دونوں‌ ملکوں کو ایک دوسرے کے درمیان مربوط تعلقات کے قیام میں‌ پیش رفت کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق امریکا اور متحدہ عرب امارات نے خطے میں امن واستحکام کے لیے مشترکہ گہرے تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں‌ گے۔ دونوں‌ مُلک ایک دوسرے کے دفاعی اور فوجی صلاحیت سے استفادہ کرنے اور خلیجی خطے میں دیر پا قیام امن کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں‌ گے۔

خیال رہے کہ بدھ کے روز متحدہ عرب امارات کے ولی عہد اور مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر الشیخ محمد بن زاید آل نھیان نے امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن سے خطے کی صورت حال، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ایران کی طرف سے خطے کو لاحق خطرات پر تبادلہ خیال کیا۔

قبل ازیں امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا تھا کہ سعودی عرب، متحد عرب امارات اور امریکا مل کر ایران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے روکیں گے۔

بدھ کو ابو ظبی میں امریکی سفارت خانے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر بولٹن کا کہنا تھا کہ 'ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کا عراق کی ملیشیائوں کو ہمارے خلاف استعمال کرنے پر گہری تشویش ہے'۔ انہوں‌ نے کہا کہ ہم اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایرانی ایجنٹوں کی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے اور ایران کی طرف سے لاحق کسی بھی خطرے کا پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کریں‌ گے۔