.

امریکی صدر ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کوشنر کی دو خصوصی ایلچیوں کے ہمراہ اسرائیل آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کوشنر مشرقِ اوسط کے دورے کے اگلے مرحلے میں جمعرات کو اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔توقع ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے لیکن ان کی اسرائیل میں مصروفیات کی کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔

کوشنر کے ہم راہ صدر ٹرمپ کے مشرقِ اوسط کے لیے خصوصی ایلچی جیسن گرین بلاٹ اور ایران کے لیے خصوصی نمایندے برائن ہُک بھی اسرائیل آئے ہیں۔اس سے پہلے انھوں نے مراکش اور اردن کا دورہ کیا تھا۔

جیرڈ کوشنر کو اب تک وائٹ ہاؤس کے صیغہ راز میں رکھے گئے امن منصوبے کا بنیادی تخلیق کار قرار دیا جارہا ہے۔اس منصوبے کے اعلان میں ماضی میں اسرائیل میں 9 اپریل کو منعقدہ انتخابات کے پیش نظر تاخیر کی گئی تھی اور اب ایک مرتبہ اسرائیلی سیاست کی وجہ سے اس کے مزید التوا کا امکان ہے کیونکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو مقررہ وقت میں نئی مخلوط حکومت کے قیام میں ناکام رہے ہیں جس کے بعد پارلیمان (الکنیست) نے ایک قرارداد کے ذریعے خود کو تحلیل کردیا ہے اور اب ستمبر میں اسرائیل میں نئے انتخابات منعقد ہوں گے۔اس لیے اسرائیل میں ان غیر یقینی سیاسی حالات میں اس متنازعہ منصوبے کے اعلان کو مناسب خیال نہیں کیا جارہا ہے۔

فلسطینی قیادت اس کو پہلے ہی مسترد کرچکی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اب تک تعصب کی حد تک اسرائیل کے حق میں اقدامات کیے ہیں۔ان متنازع اقدامات میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا ادارلحکومت تسلیم کرنا ، وہاں امریکی سفارت خانے کی منتقلی اوراقوام متحدہ کے تحت فلسطینی مہاجرین کے ادارے کے لیے کروڑوں ڈالر کی سالانہ امداد کو روکنا شامل ہیں۔ان کے علاوہ انھوں نے شام کے مقبوضہ علاقے گولان کی چوٹیوں پر بھی اسرائیل کی عمل داری تسلیم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

جیرڈ کوشنر نے بدھ کو عمان میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کی تھی۔ شاہ عبداللہ نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے مشرقِ اوسط میں جامع اور پائیدار امن کے قیام کے لیے دیرینہ تنازع کے دوریاستی حل کی ضرورت پر زور دیا تھا اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا تھا جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔ اس طرح انھوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس حل سے ماورا کسی امن منصوبے کی حمایت نہ کرنے کا عندیہ دے دیا تھا۔

ان کا یہ موقف صدر ٹرمپ کی اب تک صیغہ راز میں ’’ صدی کی ڈیل‘‘ سے متصادم نظر آتا ہے۔اردن امریکا کا خطے میں اہم اتحادی ملک خیال کیا جاتا ہے لیکن اس نے ابھی تک 25 اور 26 جون کو بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت یا عدم شرکت کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ منامہ میں ہونے والی اس مجوزہ فلسطین کانفرنس کے لیے خطے کے ممالک کی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔فلسطینی حکومت نے اس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس سے اس ضمن میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔وہ ٹرمپ انتظامیہ کے مجوزہ مشرقِ اوسط امن منصوبے کو بھی مسترد کرچکی ہے۔جیرڈ کوشنر کے بہ قول اس مجوزہ کانفرنس میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے قیام کے لیے معاشی اساس پر توجہ مرکوز کی جائے گی اور اس میں فلسطینی ریاست ایسے بنیادی سیاسی امور پر غور نہیں کیا جائے گا۔