.

مشرق وسطیٰ کے کئی ملکوں کو ایرانی دھمکیوں کا سامنا ہے: برائن ہُک

’’امریکی مفادات پر ایرانی حملوں کا بھرپور فوجی طاقت سے جواب دیں گے’’

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے لئے امریکا کے خصوصی ایلچی برائن ہُک نے کہا ہے کہ ان کا ملک تہران پر اس وقت تک دباؤ جاری رکھے گا جب تک وہ اپنی دشمنانہ روش ترک نہ کرے۔

’’العربیہ‘‘ نیوز چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے برائن ہُک نے کہا کہ ایرانی حکومت اور ان ملیشاؤں میں کوئی فرق جنہیں تہران اسلحہ فراہم کرتا ہے۔ ان کے خیال میں ’’ایران کے خلاف امریکی پابندیاں اسے چٹ کر لیں گی۔‘‘

مسٹر ہُک نے کہا ’’مشرق وسطیٰ کے کئی ملکوں کو ایرانی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ امریکا کے پاس ایرانی دھمکیوں سے نپٹنے کے کئی طریقے موجود ہیں، تاہم فی الوقت ہم ایران پر پابندیاں لگا کر اسے راہ راست پر لانے کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔‘‘

اس سے قبل سعودی عرب میں منعقدہ عرب سربراہ کانفرنس میں شرکت سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے برائن ہُک نے کہا کہ ’’ایران کے ساتھ طے پائے جوہری سمجھوتے سے امریکا کی علاحدگی کے بعد ایران کے فوجی اخراجاات میں 28 فیصد کمی آئی ہے اور ایرانی معیشت اس وقت ابتری کا شکار ہے۔‘‘

انھوں نے خبردار کیا کہ ’’اگر ایران نے ہمارے مفادات کو نقصان پہنچایا تو اس کا فوجی طاقت سے جواب دیا جائے گا۔‘‘

انہوں‌ نے سعودی عرب میں تیل پائپ لائنوں، آئل پمپنگ اسٹیشنوں اور امارات میں تیل بردار جہازوں پر ایرانی ایجنٹوں کے ذریعے کرائے گئے حملوں‌ کی شدید مذمت کی۔ دوسری جانب ایران نے ان حملوں‌ میں‌ ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔

برائن ہُک کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ ایران کو پیغام پہنچ گیا ہے۔ ہمیں اپنے مفادات کو نقصان پہنچائے جانے کا بہت زیادہ خطرہ اور خدشہ تھا مگر فی الحال ایران ایسی کوئی کارروائی نہیں‌ کر سکا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی ایلچی نے کہا کہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مالی حالت ٹھیک نہیں ہیں۔ قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران ایک کمزور ملک بن چکا ہے جو ہمارے ساتھ سمجھوتے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں‌ نے زور دے کر کہا کہ اگر ایران ہمارے ساتھ بات چیت کرتا ہے تو ہم تیار ہیں۔