.

ایران کی حج اور عمرہ کے موقع پر امن تباہ کرنے کی سازشی تاریخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران حج سیزن کے دوران سعودی عرب میں ہمیشہ سے مشکلات پیدا کرتا چلا آیا ہے تاکہ حج انتظامات سے متعلق سعودی حکومت کی اہلیت کو مشکوک بناسکے۔ اسی [80] کی دہائی سے تہران کی یہ کوششیں جاری ہیں، جن کی تکرار اکثر دیکھنے میں آتی ہے۔

ایران 1986 سے دینی مواقع کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ اسی سال سعودی سیکیورٹی اداروں نے ایرانی حجاج کے ہاتھوں 50 کلوگرام دھماکا خیز مواد سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنائی، جسے مملکت میں دھماکوں کے لئے استعمال کیا جانا تھا۔ اس واقعہ کے اگلے برس ایرانی حجاج نے مکہ میں بڑا مظاہرہ کر کے افسوس ناک صورت حال پیدا کی، جس میں سیاسی نعرے لگائے، بلوا کیا اور قانون نافذ کرنے والے سعودی اداروں کے ساتھ تصادم کی راہ اختیار کی۔ ان واقعات میں کم سے کم چار حجاج اور سیکیورٹی فورس کے اہلکار لقمہ اجل بنے۔

1989 کو حرم مکی کے گرد دو [2] دھماکے ہوئے جن میں ایک شخص جاں بحق اور 16 زخمی ہوئے۔

تحقیقات سے ثابت ہوا کہ اس کارروائی میں ایران کی حمایت یافتہ کویتی حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے 20 کویتی حجاج ملوث تھے۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ کویتی حجاج کو دھماکا خیز مواد کویت میں ایرانی سفارت کاروں کے توسط سے پہنچایا گیا۔

ایران ہر سال حج سیزن کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سے قبل حج کے موقع پر ہونے والے حادثات اور ہلاکتوں کو بنیاد بنا کر حج انتظامات کو بین الاقوامی نگرانی میں کرانے کا شوشا چھوڑ چکا ہے