.

ایران کی مذمت خلیج سربراہی اجلاسوں کا مستقل عنوان آخر کیوں بنی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حالیہ برسوں میں منعقد ہونے والے خلیج سربراہی اجلاسوں کے اعلامیوں میں ایرانی تصرفات کی مذمت جزو لاینفک رہی ہے کیونکہ انہی برسوں میں تہران کی جانب سے عرب ریاستوں میں مداخلت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

الریاض میں 2018 کو منعقد ہونے والے عرب سربراہی اجلاس میں ایران پر اچھی ہمسائیگی کے اصولوں پر کاربند رہنے کے لئے دباؤ ڈالا گیا۔ اجلاس میں امریکا کی ایران سے متعلق حکمت عملی کی تائید کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ تہران ہشت گردی اور ہمسایہ ملکوں کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے۔

کویت میں دو ہزار سترہ کو ہونے والے سربراہی اجلاس میں ایران کی یمن، بحرین اور یو اے ای کے تین جزیروں میں مداخلت کو ہدف تنقید بنایا گیا۔ بحرین کے صدر مقام مناما میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں ایران نے سعودی عرب کو گزند پہنچانے کے لئے حج پر سیاست کھیلی، جس کی عرب قیادت نے کھل کر مذمت کی۔ ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ جوہری معاہدے کی شرائط پر کاربند رہے اور بیلسٹک میزائل داغنے جیسی کارروائیوں سے باز رہے۔

سعودی دارلحکومت الریاض میں 2015 کو ہونے والے سربراہی اجلاس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ عرب ملکوں میں دہشت گردی پھیلانے کی کارروائیاں بند کرے جبکہ 2014 کو دوحا میں ہونے والے اجلاس میں تہران پر ایک مرتبہ پھر اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کی پاسداری پر زور دیا گیا۔ ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ طاقت یا اس کے استعمال کی دھمکیاں دینے سے احتراز کرے۔

تاہم 2013 کو کویت میں ہونے والے اجلاس میں خلیجی ملکوں کے حوالے ایران کے موقف کا خیر مقدم کرتے ہوئے تہران سے تعلقات استوار کرنے کی اپیل کی توثیق دیکھنے میں آئی۔ اس سے قبل مناما میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے اچھے نتائج نہ نکلنے پر افسوس کا اظہار دیکھنے میں آیا۔ نیز اسی اجلاس میں خطے کے ممالک میں ایرانی مداخلت کی کھل کر مذمت کی گئی۔