.

سعودی عرب بنا کسی امتیاز دنیا بھر کے مسلمانوں کا خیر مقدم کرتا ہے : وزیر حج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حج اور عمرے کے سعودی وزیر اور ضیوف الرحمن پروگرام کی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر محمد صالح بنتن نے حجاج اور معتمرین کی مملکت آمد سے لے کر وطن واپسی تک انہیں حاصل نمایاں دیکھ بھال اور سرپرستی پر روشنی ڈالی ہے۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی SPA کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر بنتن نے باور کرایا کہ مملکت ثقافت اور زبان کے اختلاف سے قطع نظر بنا کسی امتیاز حج اور عمرے کے لیے دنیا بھر سے آنے والے تمام مسلمانوں کی آمد کا خیر مقدم کرتی ہے ،،، اور انہیں مکمل سہولیات اور خدمات پیش کرتی ہے تا کہ وہ پوری آسانی اور اطمینان کے ساتھ اپنے مناسک ادا کر سکیں۔

ڈاکٹر بنتن نے یہ بات مکہ مکرمہ میں تین سربراہ اجلاسوں کے لیے تیار کیے جانے والے میڈیا سینٹر کے ہیڈ کوارٹر میں بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

اس موقع پر سعودی وزیر نے اللہ کے مہمانوں کے لیے ترتیب دیے گئے "ضیوف الرحمن خدمت پروگرام" کے نمایاں امور کا جائزہ لیا۔ اس پروگرام کا افتتاح خادم حرمین شریفین نے منگل کی شام کیا۔ ڈاکٹر بنتن کے مطابق ضیوف الرحمن خدمت پروگرام ،،، سعودی ویژن 2030 کا ایک اہم ترین ایگزیکٹو پروگرام ہے۔ یہ پروگرام اس امر کا متقاضی ہے کہ ہم اللہ کے مہمانوں کی راحت اور اطمینان کے واسطے اپنی تمام تر قوت صرف کرتے ہوئے کام کریں۔

سعودی وزیر نے واضح کیا کہ "اس پروگرام میں کے منصوبوں پر عمل درامد میں 30 سے زیادہ حکومتی اور سیکڑوں نجی ادارے شریک ہوں گے۔ یہ تمام ادارے پورے اخلاص کے ساتھ اللہ کے مہمانوں کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائیں گے"۔

ڈاکٹر بنتن کے مطابق مذکورہ پروگرام کو خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی مکمل توجہ اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سپورٹ حاصل ہے تا کہ اللہ کے مہمانوں کو اعلی ترین خدمات پیش کی جا سکیں۔

ڈاکٹر بنتن نے بتایا کہ "اس پروگرام کے تحت اللہ کے مہمانوں کا حرمین شریفین تک پہنچنا آسان بنایا جائے گا۔ جدید ترین ٹکنالوجی اور وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ان کے سفر کے تمام مراحل میں سہولیات پیش کی جائیں گی۔ مختلف شعبوں میں اللہ کے مہمانوں کے شایان شان اعلی ترین معیار کی خدمات پیش کی جائیں گی۔ اللہ کے مہمانوں کو مملکت سعودی عرب میں موجود آثار قدیمہ کے اور تاریخی مقامات سے متعارف کرایا جائے گا تا کہ وہ ایمان سے بھرپور روحانی ، مذہبی اور ثقافتی تجربے سے گزریں"۔