.

میانہ روی اور اعتدال کی اقدار سے متعلق "دستاویزِ مکہ مکرمہ" شاہ سلمان کو پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزيز آل سعود نے بدھ کی شام قصر صفا میں "دستاویزِ مکہ مکرمہ" وصول کی۔ یہ دستاویز میانہ روی اور اعتدال کی اقدار کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنس کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ کانفرنس کا انعقاد رابطہ عالمی اسلامی نے کیا تھا۔

اس موقع پر خادم حرمین شریفین نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے عالم اسلام کے سینئر اور جید علماء کرام کا قصر صفا میں پُر تپاک استقبال کیا۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی SPA کی رپورٹ کے مطابق خادم حرمین شریفین نے کہا کہ "رمضان کی مبارک گھڑیوں میں علماء کرام کے اجتماع پر مجھے گہری مسرت محسوس ہو رہی ہے۔ آپ لوگوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں میانہ روی اور اعتدال کی اقدار کے اہم موضوع پر گفتگو کی۔ یہ انسانیت کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے۔ اسلام کی متعدل روش واضح ہو چکی ہے۔ ہم میانہ روی کی حامل امت میں ہیں جس میں کسی قسم کے متشدد موقف اور غلو کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ امت اسلامیہ کے علماء کرام کو اس اہم قضیے کے سلسلے میں اپنی آراء یکجا کرنے بالخصوص شدت پسندی کے افکار اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیےتعاون کرتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ خادم حرمین شریفین ہونا ہمارے لیے سعادت اور اعزاز کی بات ہے تاہم الحمد للہ ہم میں سے ہر کوئی اپنے وطن میں رہتے ہوئے خادم حرمین کا کردار ادا کر رہا ہے"۔

اس موقع پر رابطہ عالمی اسلامی کے سکریٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالكريم العيسى نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے عالم اسلام کے مفتیان اور علماء کرام کے ایک مقام پر جمع ہونے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں میانہ روی اور اعتدال کی اقدار کو زیر بحث لانے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے مملکت کے لیے ایک اعلی شرف قرار دیا۔ ڈاکٹر محمد نے شرکاء کی جانب سے دستاویزِ مکہ مکرمہ جیسی تاریخی دستاویز جاری کیے جانے پر خراج تحسین پیش کیا۔

تنظیم کے سکریٹری جنرل نے بتایا کہ "کانفرنس کے سلسلے میں دنیا کے 137 ممالک سے مختلف مسالک اور مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والی ایک ہزار کے قریب معزز شخصیات بطور مہمان مملکت سعودی عرب تشریف لائیں۔ ان شخصیات میں مفتیان اعظم اور علماء کرام شامل ہیں۔ ان تمام لوگوں نے بیت اللہ کے جوار میں مبارک فضا میں اسلام کی فکری اور علمی نمائندگی کی"۔

بعد ازاں مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر شوقی علام نے مہمانان گرامی کی نمائندگی کرتے ہوئے تمام شرکاء کی جانب سے اظہار خیال کیا۔ انہوں نے خادم حرمین شریفین کی پُر خلوص دعوت اور شان دار میزبانی پر اجتماعی شکریہ ادا کیا اور امن، بھلائی، سلامتی اور محبت پھیلانے کے سلسلے میں سعودی عرب کے اہم اور قائدانہ کردار کو خراج تحسین پیش کیا۔ ڈاکٹر شوقی کے مطابق اس بین الاقوامی کانفرنس کے شرکاء کی جانب سے سامنے آنے والی سفارشات کی مدد سے دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے اور اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کے سلسلے میں عملی اقدامات کا تعین کرنے کی راہ آسان ہو گی۔

آخر میں سعودی عرب کے مفتی اعظم ، سینئر علماء کونسل کے سربراہ اور رابطہ عالم اسلامی کی سپریم کونسل کے صدر شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کی جانب سے خطاب سامنے آیا۔ یہ خطاب رابطہ عالم اسلامی کے معاون سکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبداللہ الزید نے سعودی مفتی اعظم کی جانب سے حاضرین کے سامنے پیش کیا۔

مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز نے رمضان کے آخری عشرے میں عالم اسلام کے علماء کرام کو جمع کرنے پر خادم حرمین شریفین کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سعودی فرماں روا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "میرے برادر علماء حرمین شریفین کی خدمت کے حوالے سے آپ کی تمام تر کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اسی سلسلے میں آپ کی جانب سے ان سربراہ اجلاسوں کی دعوت کو بھی گراں قدر شمار کرتے ہیں۔ یہ تمام شرکاء اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کے حوالے سے اللہ رب العزت کے بعد آپ پر اور آپ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے قائدین پر اعتماد کرتے ہیں"۔

مفتی اعظم کے مطابق کانفرنس میں مسلمان کی زندگی میں اعتدال اور میانہ روی کی اہمیت کو باور کرایا گیا اور مملکت سعودی عرب بھی اسی روش پر گامزن ہے۔

خطاب کے اختتام پر شیخ عبدالعزیز کی جانب سے کہا گیا کہ "ہم خادم حرمین شریفین کو دستاویزِ مکہ مکرمہ پیش کرتے ہوئے مسرت محسوس کر رہے ہیں۔ یہ دستاویز کانفرنس کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ ہم اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے سلسلے میں آپ کی کوششوں پر تہ دل سے سے شکر گزار ہیں۔ اللہ رب العزت آپ کا حامی و نگہبان ہو"۔

تقریب کے اختتام پر عالم اسلام کے کئی سینئر اور بڑے علماء کرام نے مشترکہ طور پر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو "دستاویزِ مکہ مکرمہ" پیش کی۔