.

ایرانی اقدامات علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں: شاہ سلمان بن عبدالعزیز

ایران کے خلاف ٹھوس اور فیصلہ کن عالمی موقف ضروری ہے: سعودی فرمانروا کا جی سی سی سمٹ سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مکہ المکرمہ میں خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی بیلسٹک میزائل تیاری کی صلاحیت علاقائی اور عالمی سالمیت کے لیے خطرہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ خطے میں ایرانی مداخلت قیام امن کی کوششوں کے لیے چیلنج ہے۔ شاہ سلمان نے ایران کے خلاف ٹھوس اور فیصلہ کن موقف اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

سعودی فرمانروا نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ایران کو دوسرے ملکوں کے معاملات میں مداخلت سے باز رکھنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے۔ انھوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ایران کی تخریبی کارروائیاں روکنے کے حوالے سے اپنی ذمے داریوں کا احساس کریں۔ انھوں نے کہا کہ ایران کی تخریبی کارروائیوں کے بارے میں کوئی موقف نہ اپنا کر آج ہم اس مقام پر آن پہنچے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایران خطے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی آبیاری کرتا ہے جس سے تجارتی جہاز رانی اور تیل کی عالمی سپلائی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ تہران کے یہ اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ ایران چالیس برس سے خطے میں اپنے اثر ونفود اور چودھراہٹ کو فروغ دینے میں کوشاں ہے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب خطے میں امن اور سلامتی قائم رکھنے کا خواہش مند ہے۔ ہم جنگ کی ہولناکیوں سے بچنا چاہتے ہیں۔ شاہ سلمان نے کہا کہ امن کے لیے سعودی عرب ہمیشہ پیش قدمی کرتا رہے گا۔ حالیہ واقعات ہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ خلیج تعاون کونسل کی کامیابیوں کو محفوظ بنایا جائے۔

شاہ سلمان کے خطاب کے بعد جی سی سی کے سیکرٹری جنرل عبدالطیف الزیانی نے کہا کہ خلیجی قیادت کا یہ اجلاس مستقبل میں پیش آنے والے سنگین خطرات کی تناظر میں ہو رہا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی ’’ایس پی اے‘‘ نے شاہ سلمان کے جی سی سی سمٹ سے خطاب کا مکمل متن جاری کیا، جسے العربیہ کے قارئین کے لئے پیش کیا جا رہا ہے۔

قابل صد احترام برادران عزیز

میں آپ سب کا مُملکت سعودی عرب، جو آپ کا اپنا دوسرا گھر ہے، میں اپنی طرف سے اس ہنگامی سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں۔ یہ کانفرنس ایسے حالات میں منعقد کی جا رہی ہے جب بالعموم پوری دنیا اور بالخصوص پورا خطہ امن وسلامتی اور استحکام کے براہ راست سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

ماضی میں ہم امن واستحکام کو لاحق خطرات اور چینلجز سے احسن طریقے سے نمٹتے رہے ہیں۔ ہم اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنے ملکوں میں اقتصادی وسماجی ترقی کو یقینی بنانے میں کامیاب رہے۔ اللہ کے خصوصی فضل واحسان کے ساتھ ہم آئندہ بھی تمام چیلنجز سے مل کر عزم اور حوصلے کے ساتھ لڑیں گے۔

برادرانِ مُحترام!

جہاں تک ایرانی رجیم کی جانب سے خطے کے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت، اس کےجوہری اور میزائل پروگرام، آزادانہ تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات، تیل بردار عالمی بحری جہازوں کو دھمکانے کا معاملہ ہے تو یہ اقدامات اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امن وسلامتی کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

ایرانی رجیم چار عشروں سے دہشت گردی کی سرپرستی کرکے خطے میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کر رہی ہے۔ خطے میں اس کا اثر ونفوذ اور غلبے کی جستجو ناقابل قبول اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

حال ہی میں ایرانی رجیم نے اپنے ایجنٹوں کی مدد سے مجرمانہ اقدامات کے ذریعے برادر ملک متحدہ عرب امارات کے قریب علاقائی پانیوں میں چار تجارتی جہازوں پر بین الاقوامی تجارتی بحری گذر گاہ میں حملہ کیا۔ سعودی عرب میں تیل کی دو اور دیگر تنصیبات پر حملے کیے۔ اس کے بعد خلیج تعاون کونسل کے مفادات کے تحفظ کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا ضروری تھا جس کے لیے یہ ہنگامی اجلاس بلایا گیا۔

قابل احترام قایدین کرام

مملکت سعودی عرب خطے کے امن، خوشحالی، ترقی اور استحکام کی خواہاں ہے۔ ہم ہرصورت میں جنگ کی ہولناکیوں سے بچنا، خطے کی تمام اقوام کے لیے امن ،استحکام اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ ہم ایرانی قوم کے لیے بھی خیر خواہی کا جذبہ رکھتے ہیں۔ سعودی عرب نے ہمیشہ امن کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ مملکت خطے میں امن واستحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہرسطح پر کوششیں‌ جاری رکھے گا۔

بات کو سمیٹتے ہوئے میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ خطے میں ایران کے کسی بھی تخریبی عمل کا مقابلہ پوری قوت اور عزم سے کیا جائے گا۔ آج یہاں پر جمع خلیجی قیادت کا یہ متفقہ موقف ہے۔ ہم اس حوالے سے عالمی برادری سے بھی اس کی ذمہ داریاں‌ پوری کرنے پر زور دیتے ہیں۔

عالمی برادری کو ایران کی خطے اور عالمی سلامتی کو خطرات میں ڈالنے کی سازشوں‌ کا نوٹس لیتے ہوئے تہران کو دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی سے روکنا، دہشت گردی کی پشت پناہی سے باز رکھنا اور بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادانہ نقل وحمل کو یقینی بنانا ہو گا۔ ۔۔۔ والسلامُ عليكم ورحمةُ الله وبركاتہ