.

بین الاقوامی اتحاد کی "غیر دانستہ" نوازش سے شام اور عراق میں 1300 شہری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

واشنگٹن کے زیر قیادت داعش کے خلاف سرگرم بین الاقوامی اتحاد نے اعتراف کیا ہے کہ 2014 میں تنظیم کے خاتمے کے لیے شروع کی جانے والی کارروائیوں کے بعد سے شام اور عراق میں اتحادی فضائی حملوں میں "غیر دانستہ طور پر" 1300 سے زیادہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

جمعے کے روز جاری بیان میں بین الاقوامی اتحاد نے بتایا کہ اگست 2014 سے اپریل 2018 تک اس نے 34502 فضائی حملے کیے۔ مشترکہ مشن فورسز کے جائزے کے مطابق مذکورہ عرصے کے دوران اتحاد کے حملوں کے نتیجے میں غیر دانستہ طور پر کم از کم 1302 شہری بھی ہلاک ہوئے۔

اتحاد نے واضح کیا کہ شہریوں کی ہلاکت کے حوالے سے ابھی 111 رپورٹیں ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ بین الاقوامی اتحاد کے اعتراف سے کہیں زیادہ لگایا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق صرف شام میں بین الاقوامی اتحاد کے فضائی حملوں میں 3800 سے زیادہ شہری جاں بحق ہوئے جن میں ایک ہزار کے قریب بچے شامل ہیں۔

بین الاقوامی اتحاد نے جس میں 70 سے زیادہ ممالک شامل ہیں 2014 کے موسم گرما میں عراق اور پھر شام میں داعش تنظیم کے خلاف اپنی عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

بین الاقوامی اتحاد نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ وہ داعش تنظیم کو کسی بھی علاقے میں کنٹرول حاصل کرنے سے محروم رکھنے کے لیے کام جاری رکھے گا اور تنظیم کو ان وسائل کے حصول سے بھی روکا جائے گا جن کی وہ دوبارہ نمودار ہونے کی کوششوں میں محتاج ہے۔