.

لبنان: جعلی الزام گھڑنے والی افسر آزاد، عدالتی فیصلے سے تنازعہ برپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں 23 نومبر 2017 کو سکیورٹی فورسز نے اسٹیج کے نوجوان اداکار زیاد عیتانی کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس پر مبینہ طور پر اسرائیل کے لیے "جاسوسی اور خفیہ رابطوں" کا الزام تھا۔ عیتانی کو اسی سال دسمبر کے وسط میں فوجی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

تاہم اُس وقت کے لبنانی وزیر داخلہ نہاد المشنوق نے یکم فروری 2018 کو عیتانی کے بری ہونے کی خبر سنا کر لبنانیوں کو حیران کر دیا۔ اسی دوران لبنانی سیکورٹی حکام نے داخلہ سکیورٹی فورسز کی خاتون لیفٹننٹ کرنل سوزان الحاج کو حراست میں لے لیا۔ سوزان پر شبہ تھا کہ اس نے اداکار زیاد عیتانی پر اسرائیل کے ساتھ معاملہ بندی کا الزام گھڑا تھا۔

آج ایک بار پھر یہ معاملہ سرخیوں کی زینت بن گیا ہے جب بیروت میں مستقل فوجی عدالت نے جرم کے کافی شواہد موجود نہ ہونے کی بنیاد پر لیفٹننٹ کرنل سوزان الحاج کے خلاف مذکورہ الزام کو خارج کر دیا۔ تاہم عدالت نے معلومات چھپانے کے الزام میں سوزان پر 2 لاکھ لبنانی لیرہ (تقریبا 125 ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا۔

فوجی عدالت کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسٹیج اداکار زیاد عیتانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو باور کرایا کہ یہ امتیازی طور پر فرقہ واریت پر مبنی ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ عیتانی کا کہنا تھا کہ "افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ملک میں ایک اسکینڈل کو اس سے بڑے اسکینڈل کے ذریعے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے اس سیاسی اور فرقہ وارانہ نظام کے سقوط کے لیے بیروت میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت کی۔ ایسا نظام جو صرف بدعنوانوں کو جنم دے رہا ہے"۔

فوجی عدالت میں حکومتی کمشنر بیرسٹر پیٹر جرمانوس نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سوزان الحاج کی عدالتی کارروائی کی آخری سماعت میں ذاتی طور پر شرکت کی۔ عدالت نے سوزان الحاج کو معاونت فراہم کرنے والے ہیکر ایلی غبش کو تین سال قید با مشقت کی سزا سنائی۔

عیتانی کے مطابق کوئی جج کسی مقدمے میں جعلی گواہ کے طور پر پیش نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کل تک میں پابند سلاسل تھا مگر آج میں آزاد ہوں اور رائے عامہ میرے ساتھ ہے۔

فوجی عدالت کے اس موقع پر سامنے آنے والے فیصلے نے سیاسی حلقوں کی جانب سے ردود عمل کو جنم دے دیا ہے۔ بالخصوص وزیراعظم سعد حریری کی جماعت "المستقبل گروپ" جس کے حلقوں کا کہنا ہے کہ بہتر ہوتا کہ فوجی عدالت کے ججز یہ فیصلہ جاری نہ کرتے۔