.

القدس کے تاریخ اور قانونی تشخص کو گزند پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی: شاہ سلمان

'او آئی سی' کے ڈھانچے کی تشکیل نو کی ضرورت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا اور خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے مکہ معظمہ میں‌ جاری اسلامی سربراہی اجلاس سے خطاب میں‌ توقع ظاہر کی ہے کہ او آئی سی کا سربراہ اجلاس عالم اسلام کی امنگوں کا ترجمان ثابت ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ مسٗلہ فلسطین کا منصفانہ حل ان کی پہلی ترجیح ہے اور عالم اسلام مقبوضہ بیت المقدس کے تاریخی اور قانونی تشخص کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

اسلامی تعاون تنظیم کا 14 واں سربراہ اجلاس جُمعہ کی شام سعودی عرب میں شروع ہوا۔ 'او آئی سی' سربراہ اجلاس کے افتتاحی خطاب میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا امید ہے کہ کانفرنس میں شریک مسلمان ممالک کے عوام کی خوش حالی اور ترقی کے لیے یہ اجلاس اہم ثابت ہوگا۔

انہوں‌ نے کہا کہ قضیہ فلسطین کا منصفانہ حل سعودی عرب کی پہلی ترجیح ہے۔ ہم اس وقت تک فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کی حمایت جاری رکھیں گے جب تک انہیں منصفانہ طریقے سے ان کے حقوق فراہم نہیں‌ کر دیے جاتے۔ شاہ سلمان نے بیت المقدس کے تقدس کو نقصان پہنچانے کی تمام کوششوں کو مسترد کردیا ہے اور کہا کہ عالم اسلام القدس کو گزند نہیں‌ پہنچنے دیں‌ گے۔

انہوں‌ نے مزید کہا کہ ایرانی حمایت یافتہ ایک دہشت گرد گروپ نے سعودی عرب میں ڈرون طیاروں‌ کی مدد سے تیل کی دو تنصیبات پر دہشت گردانہ حملے کیے گئے۔ خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات کے پانیوں میں تیل بردار جہازں پر حملے کر کے عالمی جہاز رانی میں رکاوٹ اور دُنیا کو توانائی کے حصول سے محروم کرنے کی مجرمانہ کوشش کی گئی۔

سعودی فرمانروا نے دہشت گردوں اور ان کے مالی سرپرستوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا مطالبہ کیا۔ شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ یہ بہت بڑا المیہ ہے کی پوری دنیا میں سب سے زیادہ پناہ گزین مسلمان ہیں۔ پناہ گزینوں‌ کی تعداد میں اضافے کی وجہ مسلمان ملکوں میں‌ جاری شورش ہے۔

انہوں نے علاقائی اور عالمی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے اسلامی تعاون تنظیم'او آئی سی' کے ڈھانچے کی تشکیل نو کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس سے خطاب میں ترک وزیر خارجہ مولود چاویش اوگلو نے کہا کہ القدس اور فلسطینیوں کے خلاف گہری سازشیں ہو رہی ہیں۔ انہوں‌ نے اسلامی سربراہ اجلاس کی سعودی عرب کو میزبانی دیے جانے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ توقع ہے کہ سعودی عرب مسلم امہ کے مسائل کے حل میں اپنا جوہری کردار ادا کرے گا۔ انہوں‌ نے کہا کہ مسئلہ فلسطین سے متعلق تاریخ کی کتاب دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ترکی القدس اور فلسطینی پناہ گزینوں‌ کے تحفظ کے لیے قراردادیں پیش کرے گا۔

اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس سے تنظیم کے سیکرٹری جنرل یوسف العثیمین نے کہا کہ 'مسئلہ فلسطین' او آئی سی کےایجنڈے میں سرفہرست ہے۔ انہوں‌ نے کہا کہ مسلم مماک کی نمائندہ تنظیم نے اپنے قیام کے 50 سالہ سفرمیں حق وصداقت اور انصاف ورواداری کے لیے آواز بلند کی ہے۔