.

امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے ہمیں کسی وساطت کار کی ضرورت نہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا ہے کہ تہران کو امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے کسی ثالثی یا وساطت کار کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی بات چیت کے لیے پیشگی شرط یہ ہے کہ واشنگٹن جوہری معاہدے پر عمل درامد کا اعلان کرے۔

جمعے کی شام ایک ٹی وی انٹرویو میں ظریف نے مزید کہا کہ "امریکا نے ہمارے عوام کے خلاف اقتصادی جنگ شروع کی ... اس پالیسی کو روکا جانا چاہیے۔ جب یہ پالیسی رک جائے گی تو پھر فضا مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گی"۔

ایران کے وزیر خارجہ کا یہ بیان اُس موقف کے متضاد ہے جس کا اظہار انہوں نے گذشتہ ہفتے عراق کے دورے کے دوران کیا تھا۔ اس موقع پر عراقی وزیر خارجہ محمد علی الحکیم نے ایرانی وزیر کے کانوں میں یہ بات ڈالی تھی کہ ان کا ملک ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔

یاد رہے کہ پیر کے روز جاپانی وزیراعظم نے بھی باور کرایا تھا کہ ان کا ملک ایران اور امریکا کے درمیان اختلاف حل کرانے کے لیے اپنے نمائندے تہران بھیجے گا۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے گذشتہ ہفتے مغربی سفارت کاروں کے حوالے سے بتایا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان عرب اور یورپی ذمے داران کے ذریعے بالواسطہ رابطہ موجود ہے۔ اس کا مقصد دونوں ملکوں کے بیچ کشیدگی اور تناؤ کی شدت میں کمی لانا ہے۔

اخبار کے مطابق بالواسطہ پیغامات میں ایران نے اپنے تیل پر عائد پابندیاں نرم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو کہ امریکا کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اس کی شرط ہے۔ تاہم واشنگٹن نے ایرانی تیل پر عائد پابندیاں نرم کرنے کے حوالے سے کسی استعداد کا اظہار نہیں کیا۔

ادھر امریکی ذمے داران نے تہران سے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی جیلوں میں پڑے ہوئے چار امریکیوں میں سے کم از کم ایک کو رہا کیا جائے۔ واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے دونوں ملکوں کے درمیان گرفتار شدگان کے تبادلے سے متعلق مذاکرات کرنے سے منع نہیں کیا۔