.

ایرانی کرد رہ نما کا حکومت پر خطے کو جنگ میں‌ جھونکنے کا الزام

ایرانی نظام کی تبدیلی کے لیے تمام عوامی قوتیں متحد ہوجائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک کُرد رہ نما اور 'کوملہ' جماعت کے سیکرٹری جنرل عبداللہ مہتدی نے ایرانی رجیم پرخطے کو جنگ میں جھونکنے کی سازش کا الزام عاید کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی رجیم خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اوردہشت گردی کی پشت پناہی سے بازنہیں آرہی۔ ایران کی پالیسی نے امریکا کے ساتھ جنگ کے امکانات بڑھا دیئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیےگئے ایک انٹرویو میں عبداللہ مہتدی نے کہا کہ امریکا نے ایرانی معیشت منجمد کردی ہے اور وہ مزید دبائو ڈال کر ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں‌ نے کہا کہ امریکا اپنی 12 شرائط پرمُصِر ہے جس میں ایران کے 40 سال پر محیط تخریب کارانہ طرز عمل کا خاتمہ اور دوسرے ملکوں میں عسکری گروپوں اور ملیشیائوں کی فوجی مدد ختم کرنا ہے۔ امریکا کی طرف سے ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا نعرہ ختم کرے، مغرب اور امریکا کی بے جا مخالفت ختم کرنے کےساتھ ساتھ جوہری اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کا سلسلہ بند کرے۔

ایرانی رجیم مشکل میں

ایران میں کرد آبادی کی نمائند'کوملہ' جماعت کے رہ نما عبداللہ مہتدی نے کہا کہ امریکا کی طرف سے ایران پر عاید کی جانے والی اقتصادی پابندیاں موثر ثابت ہوئی ہیں کیونکہ ان پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی رجیم مشکل سے دوچار ہوئی ہے۔ ایران میں عوامی سطح پر احتجاج بڑھ رہا ہے اور بیرون ملک ایرانی رجیم سفارتی محاذوں‌ پر بھی پسپا ہو رہی ہے۔ تاہم اس کےباوجود ایرانی رجیم عسکری جارحیت، تخریب کاری، خطے میں افراتفری اور دہشت گردوں‌کی پشت پناہی سے باز نہیں آئی۔

انہوں‌نے مزید کہا کہ موجودہ حالات نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خدشات بڑھا دیئےہیں۔ امریکا نے ایرانی رجیم کو حملوں‌کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ واشنگٹن کی طرف سے واضح‌کیا گیا ہے کہ اگر ایران نے کسی قسم کی جارحیت کی تو اسےفوجی طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

ایران میں‌نظام کی تبدیلی

کرد لیڈر نے پاسداران انقلاب کی طرف سے امریکی بحری بیڑے کو تباہ کرنے کی دھمکی کو محض گیڈر بھبکی قرار دیا اورکہا کہ ایرانی لیڈر صرف اپنے فوجیوںً اور پاسیج جیسی ملیشیائوں کے حوصلے بڑھا رہےہیں۔

نظام کی تبدیلی ایک سوال میں عبداللہ مہتدی سے پوچھا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران میں نظام کی تبدیلی نہیں‌چاہتے توآپ صدر ٹرمپ کی رائے سے کس حد تک اتفاق کرتے ہیں؟۔ اس پر عبداللہ مہتدی نے کہا کہ ایران میں نظام کی تبدیلی یہاں کےعوام پر چھوڑدینی چاہیے۔ نظام کی تبدیلی ایرانی عوام کا فطری حق ہے۔ عوام میں نظام کی تبدیلی کا جذبہ اور صلاحیت موجود ہے۔

انہوں‌نے مزیدکہا کہ بیرون ملک ایرانی اپوزیشن قیادت کو ایرانی رجیم کےسقوط کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد اور یکجہتی کی فضاء پیدا کرنا ہوگی تاکہ ایرانی عوام آزادی اور انصاف کے حصول کے بعد مرضی کی زندگی گذار سکیں۔

عبداللہ مہتدی نے مزیدکہا کہ ایران میں‌نظام کی تبدیلی کے لیے غیرفارسی تمام اقوام کو متحد ہو کر آگے بڑھنا چاہیے۔
ایرانی رجیم طاقت کے ذریعے عوام کو دبانے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ ایرانی قوم کو رنگ ونسل اور زبان کے امتیاز سے بالا تر ہو کر ملک کے وسیع مفاد میں فیصلہ کرنا ہوں‌گے۔