.

حوثی باغیوں نے یمن کے مختلف علاقوں سے 182 خواتین اغواء‌ کرلیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حکومت کے زیرانتظام انسانی حقوق کی پامالیوں کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے دعویٰ‌کیا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے صنعاء، عمران اور الحدیدہ گورنریوں سے 182 خواتین اور نوجوان لڑکیاں اغواء کر رکھی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کےمطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‌ کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ قومی کمیشن کی رکن اشراق المقطری نے بتایا کہ اس وقت حوثی باغیوں‌ کی جیلوں میں 182 خواتین پابند سلاسل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 100 خواتین کو صنعاء کے ایک عقوبت خانے میں صرف تین کمروں میں ٹھونسا گیا ہے جبکہ 70 خواتین کو عمران گورنری کی جیل اور 12 کو الحدیدہ میں رکھا گیا ہے۔

المقطری کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشا نے متعدد خواتین کو اسکولوں اور ان کے گھروں کے باہر سے حراست میں لیا۔ ان پر فلاحی کاموں‌میں حصہ لینے اور حوثیوں کے خلاف سرگرمیں میں پیش پیش رہنے کا الزام ہے تاہم خواتین کی گرفتاری کا اصل سبب فکری اور سیاسی اختلاف بتایا جاتا ہے۔

المقطری نے یمن کےلیے اقوام متحدہ کے مندوب پر زور دیا کہ وہ اغواء کی گئی خواتین کی بازیابی کے لیے حوثیوں پر دبائو ڈالیں اور گرفتار خواتین کے خاندانوں کی حوثیوں کے ہاتھوں بلیک میلنگ اور تذلیل کا سلسلہ بند کرائیں۔

یمن میں انسانی اسملنگ کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے انکشاف کیا تھا کہ صنعاء میں قید کی گئی دو خواتین نےماہ صیام کے دوران خود کشی کرلی تھی۔حوثیوں‌ کی جیلوں میں زیرحراست خواتین کی خود کشی سے خواتین پرڈھائے جانے والے مظالم کی عکاسی ہوتی ہے۔