.

جنگ اور بات چیت کا کوئی باہمی میل نہیں: ایرانی وزیر خارجہ کا امریکا کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے امریکی پابندیوں کو "اقتصادی جنگ" قرار دیا ہے۔ اگرچہ انسانی ضروریات مثلا خوراک، دوائیں، زرعی اور طبی آلات و مشینریز ان سے مشتثنی ہیں تاہم اس کے باوجود تہران کا دعوی ہے کہ پابندیوں نے شہریوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

ایران یہ اعلان کر چکا ہے کہ پابندیاں اٹھائے جانے سے قبل امریکا کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔

پیر کی شب اپنی ٹویٹ میں ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک بار پھر کہا ہے کہ امریکی پابندیاں درحقیقت "ایران کے اخلاف اقتصادی دہشت گردی ہے" جس نے بے قصور شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ اور بات چیت خواہ شرائط کے ساتھ ہوں یا ان کے بغیر ،،، یہ آپس میں جوڑ نہیں کھاتیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کا یہ موقف اتوار کے روز امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔ بیان میں پومپیو نے عندیہ دیا تھا کہ امریکا جوہری پروگرام کے حوالے سے پیشگی شرائط کے بغیر ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ تاہم واشنگٹن یہ چاہتا ہے کہ پہلے تہران "ایک نارمل ریاست" کی طرح پیش آئے۔

جوہری معاہدے سے امریکا کی علاحدگی کا ایک سال پورا ہونے کے بعد گذشتہ چند ہفتوں کے دوران فریقین کے درمیان کشیدگی کی شدت میں بڑھوتی ہوئی ہے۔

واشنگٹن نے گذشتہ سال ایران پر دوبار ہسے پابندیاں عائد کر دیں۔ گذشتہ ماہ ان پابندیوں کو اُس وقت مزید سخت کر دیا گیا جب امریکا نے تمام ممالک کو حکم دیا کہ وہ ایرانی تیل کی خریداری روک دیں۔ واشنگٹن نے عسکری مقابلے کا عندیہ دیتے ہوئے خطے میں ایرانی خطرات پر روک لگانے کے واسطے اضافی فورس بھی بھیج دی ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال نومبر کے آغاز میں امریکی پابندیوں کے دوسرے دور میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے اعلان کے مطابق واشنگٹن نے انسانی ضروریات مثلا خوراک، دوائیں، زرعی آلات اور طبی مشینریز کو مستثنی قرار دیا تھا۔

اس موقع پر پومپیو کا کہنا تھا کہ "پابندیوں میں ایرانی عوام کو نہیں بلکہ حکمراں نظام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایرانی عوام اس نظام کے سائے میں شدید مشکلات سے دوچار رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم اپنی پابندیوں کے سلسلے میں بہت سے شعبوں کو انسانی استثنا فراہم کر رہے ہیں"۔

وہائٹ ہاؤس نے 3 نومبر 2018 کو ایران کے خلاف تمام امریکی پابندیاں بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ پابندیاں جولائی 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کے تحت مکمل طور پر معطل کر دی گئی تھیں۔ پابندیوں کے اس مرحلے نے ایرانی معیشت کے ایک بڑے حصے کو شامل کر لیا ہے۔ اس میں بنیادی طور پر توانائی کے سیکٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، گیس، پیٹرکیمیکل مصنوعات اور اور اسی طرح تجارت اور مالی لین دین شامل ہے۔