.

سلامتی کونسل: ادلب پر عسکری حملے، روس مذمتی بیان کے آڑے آ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے ادلب میں شامی حکومت کے عسکری آپریشن سے متعلق سلامتی کونسل کا مذمتی بیان جاری ہونے سے روک دیا۔ مغربی ممالک کو اندیشہ ہے کہ اس آپریشن کا نتیجہ ایک انسانی المیے کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

پیر کے روز روس نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ کونسل کا بیان "غیر متوازن" تھا کیوں کہ اس میں دو قصبوں ہجین اور باغوز کا ذکر نہیں کیا گیا جہاں کے شہریوں کو امریکا کی حمایت یافتہ فورسز اور داعش تنظیم کے درمیان شدید لڑائی کے سبب مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔

ادلب میں شامی اپوزشین گروپوں کے زیر کنٹرول علاقے میں پر تشدد کارروائیوں میں اضافے کے پس منظر میں سلامتی کونسل کے دو ہنگامی اجلاسوں کے بعد اس بیان کا متن کویت، بیلجیم اور جرمنی نے بطور تجویز پیش کیا تھا۔

گذشتہ ماہ روس نے ایک بیان جاری ہونے سے روک دیا تھا۔ بیان میں اپنے طور پر خبردار کیا گیا تھا کہ شامی حکومت کی فورسز نے تیس لاکھ آبادی والے علاقے ادلب پر وسیع پیمانے پر حملہ کیا تو ایک سنگین انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

سلامتی کونسل کے بیانات کو تمام 15 رکن ممالک کی متفقہ حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔

شامی حکومت اور اس کے حلیف روس نے رواں سال اپریل سے ادلب پر فضائی حملوں اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں 2.7 لاکھ سے زیادہ شہری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔

اقوام متحدہ کے نمائندے کے معاون دمتری پولیانسکی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ اس (بیان) جیسی دستاویز کی تجویز پیش کرنا کسی حل تلاش کرنے کی خاطر نہیں بلکہ یہ تعلقات عامہ کے زمرے میں آتا ہے۔

مجوزہ بیان میں شمال مغربی شام میں اُن دشمنانہ کارروائیوں کی شدت میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جنہوں نے ہسپتالوں ، کلینکوں اور اسکولوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ بیان میں تمام فریقوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ روس اور ترکی کے درمیان گذشتہ ستمبر میں طے پائی گئی فائر بندی کی پاسداری کریں۔

روس فائر بندی کے حوالے سے اپنی پاسداری کی تصدیق کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ عکسری کارروائیوں کا مقصد خصوصی طور پر "دہشت گردوں" کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے۔

ادلب صوبے کے اکثر علاقوں پر ہیئۃ تحریر الشام (شام میں القاعدہ کی شاخ) کا کنٹرول ہے۔

مغربی ممالک کو اس بات کا خدشہ ہے کہ ادلب پر ایک وسیع پیمانے پر حملہ شروع کیے جانے کے نتیجے میں سامنے آنے والا معرکہ شام میں گذشتہ 8 برسوں کے دوران شدید ترین ہو گیا ۔