.

سوڈان:حکمراں فوجی کونسل کی احتجاجی دھرنے کے خلاف تشددآمیز کارروائی کی تحقیقات کا آغاز

کونسل کسی بھی شرائط کے بغیر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تمام فریق نیا صفحہ کھولیں اور آگے بڑھیں: جنرل عبدالفتاح البرہان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی حکمراں فوجی کونسل نے دو روز قبل دارالحکومت خرطوم میں احتجاجی مظاہرین کے دھرنے کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی تشدد آمیز کارروائی کی تحقیقات شروع کردی ہے اور کہا ہے کہ جو کوئی بھی اس کارروائی میں قصور وار پایا گیا ،اس کا مواخذہ کیا جائے گا۔سکیورٹی فورسز کے وزارت دفاع کی عمارت کے باہر دھاوے ا ور تشدد کے نتیجے میں پینتیس افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے تھے۔

حکمراں فوجی کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے عید الفطر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ تشدد کے اس واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ کونسل کسی بھی شرائط کے بغیر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔انھوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ ’’وہ نیا صفحہ کھولیں اور آگے بڑھیں‘‘۔

دریں اثناء عبوری فوجی کونسل کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد حمدان نے کہا ہے کہ سیاسی قوتوں کے ساتھ مذاکرات کو ترک کر دیا گیا ہے اور ملک اب ایک مشمولہ نظام ِ حکومت کی جانب آگے بڑھ رہا ہے۔

انھوں نے فوجی کونسل کے اس موقف کا ا عادہ کیا ہے کہ وہ حکمرانی نہیں چاہتی ہے اور وہ ملک میں امن وامان بحال کرکے اس کا وقار بلند کرنا چاہتی ہے۔مسٹر داغلو نے بھی یہ کہا کہ سکیورٹی فورسز کو شہریوں سے معاملہ کاری کے وقت زیادہ سے زیادہ ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

خرطوم میں سکیورٹی فورسز نے حزب اختلاف کے احتجاجی کیمپ کو منتشر کرنے کے لیے سوموار کی صبح دھاوا بول دیا تھا اور فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں تیس سے زیادہ افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے تھے ۔ اپریل میں سابق سوڈانی صدر عمر حسن البشیر کی معزولی کے بعد شہر میں تشدد کا یہ بدترین واقعہ تھا۔حزب اختلاف سے وابستہ ڈاکٹروں کے ایک گروپ نے فائرنگ سے کم سے کم 120 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔

حزب اختلاف کے مرکزی گروپ نے حکمراں عبوری فوجی کونسل پر اس قتل عام کا الزام عاید کیا تھا جس کے حکم پر سکیورٹی فورسز نے احتجاجی کیمپ پر دھاو ا بولا تھا۔ تاہم کونسل کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل شمس الدین کباشی نے اس الزام کی تردید کی تھی۔عبوری فوجی کونسل نے بعد میں ایک بیان میں کہا تھا کہ’’ جس طرح واقعات پیش آئے ہیں، اس کو اس پر افسوس ہے۔ وہ شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے اور جلد سے جلد مذاکرات کا مطالبہ کرتی ہے‘‘۔سوڈان کے پبلک پراسیکیوٹر نے بھی تشدد کے واقعات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔