.

اوپیک تیل فراہمی میں کمی کے معاہدے میں توسیع کے قریب پہنچ چکی ہے: خالد الفالح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم ’’اوپیک‘‘تیل فراہمی میں کمی کے معاہدے کو جون سے آگے توسیع پر غور کر رہی ہے، تاہم اس وقت اہم سوال یہ ہے کہ پیٹرولیم برآمد کرنے والے ان ملکوں کو کیسے راضی کیا جائے جو ’’اوپیک‘‘ کے رکن نہیں ہیں۔

یاد رہے’’اوپیک‘‘ اور تنظیم سے باہر تیل برآمد کرنے والے ملکوں نے گذشتہ برس دسمبرمیں طے کیا تھا کہ وہ جنوری 2019سے جون 2019 تک تیل کی فراہمی میں 1.2 ملین بیرل یومیہ کمی کریں گے۔ ان ملکوں کا اجلاس آئندہ ہفتوں میں متوقع ہے جس میں وہ اپنا اگلا لائحہ عمل طے کریں گے۔

سعودی وزیر توانائی خالد الفالح نے روس کے شہر سینٹ پیٹسبرگ میں ایک اقتصادی فورم خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اوپیک‘‘ کی جانب سے تیل فراہمی کمی کے معاہدے میں توسیع کا قوی امکان ہے، تاہم اصل معاملہ تیل برآمد کرنے والے ان ملکوں کا ہے جو باقاعدہ طور پر ’’اوپیک‘‘ تنظیم کے رکن نہیں، لیکن وہ تیل کے برآمدی کاروبار میں شریک ہیں۔

’’مجھے امید ہے کہ تیل فراہمی میں کے معاہدے کو نئی مدت تک توسیع جا سکتی ہے، تاہم اگر یہ ممکن نہ ہوا تو مملکت اپنی شرائط میں نرمی دکھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے تیل فراہمی میں مزید کمی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔‘‘

اس سے قبل سعودی وزیر توانائی نے کہا تھا کہ وہ تیل کی قیمتوں میں گراوٹ سے پہنچنے والے نقصان کو تین کی پیدا وار میں اضافے کے ذریعے پوراکرنے کی پالیسی کے حق میں نہیں کیونکہ 2014-15کی حد تک تیل کی قیمتوں کو گرانا ان کے ملک کے قابل قبول نہیں ہے۔

انجینئر فالح کے بقول تیل کی منڈی میں ابھی مکمل استحکام نہیں آیا۔ تیل کی قیمتوں پر ’’اوپیک‘‘ سے باہر کے عناصر اثر انداز ہو رہے ہیں۔